پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرین کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ریل کرایوں سے متعلق اہم خبر سامنے آ گئی ہے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے بعد جہاں انٹر سٹی اور مقامی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، وہیں پاکستان ریلوے کی جانب سے اس حوالے سے ایک اہم اعلان بھی کیا گیا ہے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے بعد آپریشنل اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹرین کے کرایوں میں 30 فیصد تک اضافہ متوقع تھا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ریلوے کو کسی بھی درجے کے کرایوں میں اضافہ نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
حکومت پاکستان نے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ خود برداشت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے رواں مالی سال کے اختتام، یعنی 30 جون تک، 6 ارب روپے کا اضافی بوجھ اپنے ذمہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق اکانومی اور اے سی سمیت کسی بھی کلاس کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ تاجر برادری کی سہولت کے پیش نظر فریٹ ٹرینوں کے کرایوں میں بھی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا کہ وزیراعظم کا یہ اقدام عوام کے لیے ایک تحفہ ہے اور انہوں نے مشکل حالات میں مسافروں کے دل جیت لیے ہیں، جس کے باعث اب ریلوے کا سفر ہر طبقے کی پہنچ میں برقرار رہے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






