چین اور پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں شہریوں اور غیر عسکری اہداف پر حملوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور خطے میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے امن مذاکرات کے فوری آغاز پر زور دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے درمیان خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی مشاورت ہوئی، جس میں دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے اور انسانی امداد کی رسائی یقینی بنانے کے اقدامات پر اتفاق کیا۔
بیجنگ اجلاس میں چین اور پاکستان نے فریقین پر زور دیا کہ فوری جنگ بندی کی جائے، جنگ کے پھیلاؤ کو روکا جائے اور ایران و خلیجی ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ دونوں ممالک نے کہا کہ تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے اور امن مذاکرات کے دوران کسی بھی طاقت یا دھمکی کے استعمال سے گریز کیا جائے۔
مزید برآں، چین اور پاکستان نے توانائی، ڈی سیلینیشن پلانٹس، بجلی کی تنصیبات اور پرامن جوہری انفراسٹرکچر کے تحفظ پر زور دیا، اور آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں اور عملے کے تحفظ و محفوظ گزرگاہ کی فوری بحالی کی ضرورت پر بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمندری راستے عالمی تجارت اور توانائی کی رسد کے لیے نہایت اہم ہیں اور شہری و تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی بالادستی کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے دیرپا امن کے لیے جامع امن فریم ورک کی تشکیل اور کثیرالجہتی نظام کی مضبوط حمایت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو مزید تقویت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






