اسلام آباد: عیدالفطر کی خوشیوں سے قبل سرکاری ملازمین کے لیے ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے، جس نے کئی گھروں کی منصوبہ بندی کو متاثر کر دیا ہے۔
وفاقی حکومت نے بڑھتے ہوئے اخراجات پر قابو پانے کے لیے سخت فیصلے کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں کے علاوہ تمام الاؤنسز اور اضافی ادائیگیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو نے حکومتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے باقاعدہ تنخواہوں کے علاوہ دیگر تمام مالی ادائیگیوں کو روک دیا ہے، جس سے ملازمین میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے، تاکہ مالی اہداف اور طے شدہ شرائط کو پورا کیا جا سکے۔ اس مقصد کے تحت غیر ضروری اخراجات کو محدود کرتے ہوئے مالی نظم و ضبط قائم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت معاشی اصلاحات کے لیے سنجیدہ ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدوں کی پاسداری کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کفایت شعاری مہم کے تحت سرکاری اور خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5 سے 30 فیصد تک کمی کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ مزید برآں حکومت نے سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی کے لیے کئی اقدامات متعارف کروائے ہیں، جن میں سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے استعمال میں 50 فیصد کمی، نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی، غیر ملکی دوروں کی مکمل بندش، اور آن لائن اجلاسوں کو فروغ دینا شامل ہے۔
اسی مہم کے تحت کابینہ اراکین، وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی کی تنخواہیں عوامی فلاح و بہبود کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جبکہ شفافیت بڑھانے کے لیے فریق ثالث آڈٹ کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






