خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں ، حکومت کی جانب سے اصل خبر آگئی

 حکومت نے خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کسی بھی خلیجی ملک سے پاکستانیوں کو نکالے جانے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں حکومتِ پاکستان نے خلیجی ممالک سے پاکستانی شہریوں کی زبردستی بے دخلی کی خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دے دیا۔

ایوان کے اجلاس کے دوران اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل کی سرکاری دستاویزات پیش کی گئیں، جبکہ ملک کے اندر غیر قانونی شناختی کارڈز اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن پر اہم بریفنگ بھی دی گئی۔

اجلاس کے دوران حکومتی ارکانِ اسمبلی نے واضح کیا کہ کسی بھی خلیجی ملک سے پاکستانیوں کو نکالے جانے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایوان کو پالیسی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا حکومت کی سخت پالیسیوں کے باعث غیر قانونی طریقے سے بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرنے والوں کی شرح میں 44 فیصد نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر جعلی دستاویزات اور پاسپورٹ کی پڑتال کے لیے جدید آلات نصب کر دیے گئے ہیں۔ کسی بھی جعلی دستاویز پر سفر کرنے والے کو فوری آف لوڈ کر دیا جاتا ہے، جبکہ ایئرپورٹس پر تعینات ایف آئی اے کے عملے کی پیشہ ورانہ تربیت کا عمل بھی جاری ہے، ان سخت مانیٹرنگ اور سیکیورٹی اقدامات کی بدولت عالمی سطح پر پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ اور رینکنگ میں بتدریج نمایاں بہتری آ رہی ہے۔

وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے غیر ملکیوں کے شناختی کارڈز بنوانے کے معاملے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی افراد کو پاکستانی نادرا کارڈز کے اجراء کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا “یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ کچھ مقامی پاکستانیوں نے محض ذاتی مفاد اور ملی بھگت کے ذریعے غیر ملکیوں کو اپنے فیملی ٹری میں شامل کروایا، جس کی وجہ سے ان غیر ملکیوں نے پاکستانی شناختی کارڈز حاصل کیے۔”

دورانِ اجلاس قومی اسمبلی میں ایک اہم سرکاری دستاویز بھی پیش کی گئی جس نے خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی مزدوروں کے مسائل کو عیاں کر دیا، دستاویز کے مطابق گزشتہ 3 سال کے دوران 7 خلیجی ممالک سے پاکستانی محنت کشوں کی جانب سے مجموعی طور پر 9,233 شکایات درج کروائی گئیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close