وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرول موجودہ قیمت پر ایک ماہ تک دستیاب رہے گا اور عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی سوچ یہی ہے کہ آئندہ پیٹرول کی قیمتوں کا بوجھ عوام پر نہ ڈالا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 390 ارب روپے کا فنڈ بجٹ میں رکھا گیا تھا جو ایسی صورتحال کے لیے ہی استعمال ہونا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ آج عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کا ریٹ 170 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے کا اضافہ حکومت کو مجبوراً کرنا پڑا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں علی پرویز ملک نے کہا کہ اس وقت خطے میں غیر معمولی حالات ہیں۔ اسرائیل اور امریکا کی ایران کے ساتھ جنگ نے خطے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ آبنائے ہرمز پر پاکستان کے دو جہاز بھی خام تیل کے ساتھ پھنسے ہوئے ہیں اور کسی کو نہیں معلوم کہ یہ بحران کب ختم ہوں گے۔
واضح رہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ خام تیل کی قیمت میں تیس فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 24.29 فیصد اضافے سے 115 ڈالر فی بیرل جبکہ برینٹ خام تیل 23.02 فیصد اضافے سے 116 ڈالر فی بیرل ہو گیا ہے۔ عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






