سعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکیہ نے مشرق وسطیٰ اور خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو واحد راستہ قرار دے دیا۔
چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر مشاورتی اجلاس کیا جس میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ان میں سے 3 ممالک نے 7 اگست کو مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جبکہ چوتھے ملک مصر کی بھی معاہدے میں جلد شمولیت متوقع ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ خطے میں جاری جنگی کارروائیوں پر گہری تشویش ہے اور پائیدار حل کے لیے سفارت کاری ضروری ہے، اس تناظر میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد پر زور دیا گیا۔
اعلامیے میں سعودی عرب کے خلاف تمام حملوں بالخصوص حالیہ حوثی حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ سعودی عرب کو اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اپنے دفاع اور عوام کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ بحری آمدورفت کی سلامتی یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے یمن کی جائز حکومت اور صدارتی قیادت کونسل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں استحکام کے لیے جامع یمنی مذاکرات ضروری ہیں۔
فلسطین پر چاروں ممالک نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر مشرقی بیت المقدس کے دارالحکومت کے ساتھ آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔
اعلامیے میں سوڈان کی خودمختاری اور وحدت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا، متوازی حکومتوں کو مسترد کیا گیا اور سوڈان میں ہتھیاروں اور غیر ملکی جنگجوؤں کی غیر قانونی آمد روکنے پر زور دیا گیا۔






