ٹرمپ کی مخالفت بڑھنے لگی، ایران جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ سامنے آ گیا

صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت ری پبلکن میں مخالفت بڑھنے لگی ہے اور سینیٹ کے دو امیدواروں نے ایران جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کر دیا۔

 

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سخت مقابلے والی نشستوں مشی گن اور آئیووا سے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز اور ایشلے ہنسن نے پیر کو ایران کے معاملے پر نرم موقف اختیار کیا، حالانکہ دونوں پہلے تہران پر حملے کے لیے ٹرمپ کے اختیارات کی حمایت کر چکے تھے۔

 

ہنسن کا یوٹرن خاص طور پر قابل ذکر ہے، جو ایوان نمائندگان کی رکن ہیں اور چھ بار جنگ کے اختیار کو محدود کرنے کی قراردادوں کے خلاف ووٹ دے چکی ہیں، جس میں گزشتہ ہفتے کی ووٹنگ بھی شامل ہے۔

 

ہنسن نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ آئیووا کے عوام معاشی دباؤ میں ہیں اور انہیں جنگ کی قیمت پیٹرول پمپ پر نہیں دینی چاہیے، گیسولین ٹیکس معطل کرنے اور ڈیزل برآمدات روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا جنگ کو کامیاب اور فوری انجام تک پہنچایا جائے۔

 

مشی گن میں راجرز نے گروسری اسٹور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ جلد ختم ہونی چاہیے، تب توانائی کی قیمتیں کم ہوں گی لیکن عوام مزید انتظار نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بھی پیٹرول ٹیکس معطلی اور ڈیزل برآمدات پر عارضی پابندی کا مطالبہ کیا۔

 

یہ مطالبات ایسے وقت سامنے آئے جب ٹرمپ کی مقبولیت 29 فیصد پر آ گئی ہے۔ ڈیموکریٹس کے مطابق کمزور پوزیشن والے ریپبلکن سیاسی نقصان سے بچنے کے لیے ٹرمپ سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں۔