سیلاب کی ہولناک تباہ کاریاں ، نیپال کا بھارت، چین اور امریکا سے بڑا مطالبہ

نیپال نے حالیہ تباہ کن سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے بھارت، چین اور امریکا سے موسمیاتی معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیپالی حکومت نے اقوام متحدہ کے ’لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ‘ سے بھی مالی معاونت طلب کرلی ہے۔

نیپال نے چین، امریکا اور بھارت کو دنیا میں گرین ہاؤس گیسوں کے بڑے اخراج کنندگان قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے کمزور ممالک کو معاوضہ ملنا چاہیے، حالانکہ عالمی حدت کا سبب بننے والے اخراج میں ان ممالک کا حصہ انتہائی کم ہے۔

نیپال کے وزیر خارجہ ششیر کھنال نے کہا ہے کہ حکومت اپنی سفارتی حکمت عملی کو محض امداد کے مطالبے سے نکال کر موسمیاتی انصاف اور معاوضے کے مطالبے کی جانب لے جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ خیرات کا معاملہ نہیں بلکہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

26 اگست کو بھوٹیکوشی میں آنے والے شدید سیلاب نے رسووا، نوواکوت اور دھادنگ سمیت مختلف علاقوں کو بری طرح متاثر کیا۔ سیلاب کے نتیجے میں گھروں، سڑکوں، پلوں اور پن بجلی کے منصوبوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے۔ حکام نے اس تباہی کو ’ہمالیائی سونامی‘ قرار دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سیلاب اور اس سے جڑی تباہی کے نتیجے میں کم از کم 1127 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 3900 افراد لاپتا ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ تباہی نیپال اور چین کی سرحد کے قریب چٹانوں اور برف کے بڑے تودے کے گرنے کے بعد آنے والے سیلاب سے ہوئی۔

نیپال کے وزیر خزانہ سوارنیم واگلے کے مطابق سیلاب سے تباہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے ملک کو 4 سے 5 ارب ڈالر تک درکار ہوسکتے ہیں، جو نیپال کی مجموعی معیشت کا تقریباً 10 فیصد بنتے ہیں۔

نیپالی حکومت وزیراعظم بالیندر ’بالین‘ شاہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک بھیجنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ امکان ہے کہ وزیراعظم عالمی فورم پر سیلاب کی تباہ کاریوں، موسمیاتی انصاف اور متاثرہ ممالک کے لیے معاوضے کا معاملہ اٹھائیں گے۔

نیپال نے فوری مالی معاونت کے لیے اقوام متحدہ کے تحت قائم ’فنڈ فار ریسپانڈنگ ٹو لاس اینڈ ڈیمیج‘ سے بھی باضابطہ رابطہ کیا ہے۔