جنوبی نیپال میں حالیہ دنوں مذہبی کشیدگی کے باعث متعدد شہروں اور قصبوں میں حالات خراب ہو گئے ہیں، جہاں پرتشدد واقعات کے بعد سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بعض مشتعل افراد نے ایک مسجد کے مینار سے لاؤڈ اسپیکر اتار کر پھینک دیا اور وہاں اپنی تنظیم کا جھنڈا لہرا دیا۔ اس دوران مسلمانوں کی کئی جھونپڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی، جبکہ متاثرہ خاندانوں میں خواتین اور بچوں کو شدید پریشانی کی حالت میں دیکھا گیا۔
اطلاعات کے مطابق کشیدگی کا آغاز گزشتہ ہفتے بھارت کی سرحد سے ملحقہ ضلع سنسری میں ہندوؤں کے سالانہ مذہبی جلوس کے دوران پیش آنے والے تنازع کے بعد ہوا، جس کے بعد مختلف علاقوں میں پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔
صورتحال کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھتے ہوئے حساس مقامات پر گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نیپالی حکام نے عوام سے امن و امان برقرار رکھنے، افواہوں سے گریز کرنے اور دونوں برادریوں سے تحمل و بردباری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔






