واشنگٹن: امریکا کی معروف مسلم شہری حقوق تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) نے ورجینیا کے ایک بڑے سرکاری تعلیمی نظام کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چار مسلم طلبہ کو ان کے مذہبی اور نسلی پس منظر کی بنیاد پر غیرمنصفانہ طور پر سزا دی گئی۔
درخواست کے مطابق یہ معاملہ اکتوبر 2025 میں اس وقت سامنے آیا جب تھامس جیفرسن ہائی اسکول فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی۔ ویڈیو ایک مقبول آن لائن رجحان کا حصہ تھی جس میں طلبہ مزاحیہ انداز میں اپنے ساتھیوں کو تنظیمی اجلاس میں شرکت کی دعوت دیتے دکھائی دیتے تھے۔
تنظیم کا مؤقف ہے کہ ویڈیو میں نہ کسی قسم کی دھمکی دی گئی تھی، نہ اسلحہ دکھایا گیا تھا اور نہ ہی حقیقی تشدد یا تنازع کی کوئی جھلک موجود تھی۔ اس کے باوجود اسکول انتظامیہ نے بعض بیرونی حلقوں کی تنقید کے بعد مسلم طلبہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں معطل کر دیا اور ان کے تعلیمی ریکارڈ میں تادیبی نوٹ درج کر دیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ دیگر طلبہ تنظیموں نے بھی اسی نوعیت کی ویڈیوز تیار کیں جن میں فرضی تشدد اور اسلحے کے مناظر شامل تھے، لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ تنظیم کے مطابق مسلم طلبہ کو مخصوص طور پر نشانہ بنایا گیا اور ان پر بلاجواز یہود مخالف رویے کے الزامات عائد کیے گئے۔
مقدمے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک طالب علم کو فلسطین کے نقشے والی سویٹ شرٹ پہننے سے روک دیا گیا، جبکہ معطلی اور الزامات کے باعث طلبہ کو آن لائن ہراسانی، دھمکیوں، تعلیمی مشکلات اور کالج داخلوں و انٹرن شپ کے مواقع میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
تنظیم کی وکیل کیتھرین کیک کا کہنا ہے کہ مسلم طلبہ کے ساتھ وہی رویہ اختیار نہیں کیا گیا جو دیگر طلبہ تنظیموں کے ساتھ کیا گیا، جس سے امتیازی سلوک کا تاثر مضبوط ہوتا ہے۔
دوسری جانب اسکول انتظامیہ نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ ویڈیو میں فرضی اغوا اور تشدد جیسے مناظر دکھائے گئے تھے جو تعلیمی ماحول کے لیے مناسب نہیں تھے۔ انتظامیہ کے مطابق غزہ جنگ کے تناظر میں ایسی ویڈیوز بعض طلبہ، خصوصاً یہودی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے باعثِ تشویش اور تکلیف بن سکتی ہیں۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اسکول کی کارروائی امریکی آئین میں دی گئی آزادیٔ اظہار، مساوی حقوق اور شہری آزادیوں سے متعلق وفاقی قوانین کے منافی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق مقدمے کا فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا عدالت کے سامنے مذہبی یا نسلی بنیاد پر امتیازی سلوک کے شواہد ثابت ہو پاتے ہیں یا نہیں۔
مقدمے میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ طلبہ کے خلاف تادیبی ریکارڈ ختم کیا جائے، مناسب ہرجانہ ادا کیا جائے اور آئندہ ایسے اقدامات کی روک تھام کے لیے واضح احکامات جاری کیے جائیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






