امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تجویز مسترد کرتے ہوئے جوہری معاہدے تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف اپنے مقاصد تقریباً حاصل کر چکے ہیں، اس کے پاس میزائل سازی کی صلاحیت انتہائی کم رہ گئی ہے، ایران کے 82 فیصد میزائل تباہ کر دیئے ہیں، ایران کے پاس کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہیئں۔
بدھ کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزوس کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ پہلے ایران کو جوہری معاہدے پر آمادہ ہونا ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینیٹ کام) نے ایران پر ”مختصر اور طاقتور“ فضائی حملوں کا ایک منصوبہ بھی تیار کیا ہے، جس کا مقصد مذاکرات میں تعطل توڑنا بتایا جا رہا ہے۔ ان ممکنہ حملوں میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
ان حملوں کے بعد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر مجبور کیا جائے گا تاہم تاحال کسی فوجی کارروائی کا باضابطہ حکم جاری نہیں کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی بحری ناکہ بندی بمباری کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے اور ایران اس صورت حال میں شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی تیل کی برآمدات رکنے سے اس کے آئل ذخائر اور پائپ لائنز خطرناک حد تک دباؤ میں ہیں تاہم بعض ماہرین نے اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق تہران ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے معاہدہ چاہتا ہے لیکن امریکا اس وقت تک کوئی نرمی نہیں دکھائے گا جب تک جوہری معاملہ حل نہیں ہوتا۔
انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے ممکنہ فوجی کارروائی یا آئندہ عسکری منصوبوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا تاہم انہوں نے مؤقف دہرایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا سے منسوب سیکیورٹی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے خلاف جلد ”عملی اور غیر معمولی ردعمل“ سامنے آ سکتا ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق ملک کی مسلح افواج نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ سفارت کاری کو موقع دیا جا سکے تاہم اگر ناکہ بندی جاری رہی تو سخت جواب دیا جائے گا۔
ایران کے خلاف اپنے مقاصد تقریباً حاصل کرچکے ہیں: صدر ٹرمپ
دوسری جانب امریکی خلا بازوں سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف اپنے مقاصد تقریباً حاصل کر چکے ہیں، اس کے پاس میزائل سازی کی صلاحیت انتہائی کم رہ گئی ہے، ایران کے تمام جہاز تباہ کردیے گئے ہیں، ان کے 82 فیصد میزائل بھی تباہ کردیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، ایران کی معیشت تباہی سے دوچار ہے اور کرنسی کی قدر بھی کم ترین سطح پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیوکلیر ہتھیاروں کے معاہدے تک ایران سے کوئی ڈیل نہیں ہوگی، ایران کے پاس نہ نیوی، نہ ایئرفورس اور نہ اینٹی ایئرکرافٹ میزائل بچے ہیں، روسی صدر نہیں چاہتے کہ ایران نیوکلیئر پاور بنے۔
امریکی صدر نے کہا کہ یو اے ای کے باہر نکلنے سے اوپیک میں مشکلات ہوں گی جب کہ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیموکریٹس ٹرمپ سنڈروم کا شکار ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






