امریکا کو ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران میزائلوں کے بڑے پیمانے پر استعمال کے بعد مستقبل میں اسلحہ کی قلت کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین اور پینٹاگون کے جائزوں سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے اہم میزائل ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے۔ اس صورتحال میں اگر آئندہ چند برسوں میں کوئی نئی جنگ چھڑتی ہے تو امریکا کو میزائلوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایک حالیہ تجزیے کے مطابق تقریباً 7 ہفتوں کی جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے میزائیلوں کے ذخیرے کا کم از کم 45 فیصد استعمال کیا۔
اس کے علاوہ بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے تھاڈ میزائلوں کا کم از کم نصف حصہ استعمال ہو چکا ہے، جبکہ انٹرسیپٹر میزائلوں کا بھی تقریباً 50 فیصد خرچ ہو چکا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






