یوکرینی صدر کا پیوٹن سے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ، براہِ راست ملاقات کی پیشکش

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے جنگ کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے دو طرفہ ملاقات کی پیشکش کر دی ہے۔

صدر زیلنسکی نے روسی صدر کو ایک خط بھیجا ہے جس میں انہوں نے روبرو ملاقات کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان لڑائی بہت ہو چکی ہے اور اب یہ فیصلہ صدر پیوٹن کے ہاتھ میں ہے کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے کیا قدم اٹھاتے ہیں۔

زیلنسکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ یوکرین مذاکرات کے دوران جنگ بندی کے لیے تیار ہے، تاہم اگر روس جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہوتا تو یوکرین اپنی دفاعی جنگ جاری رکھنے کے لیے بھی تیار ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ممکنہ ملاقات کے لیے وقت اور مقام طے کیا جانا ضروری ہے تاکہ امن عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

زیلنسکی کے خط کا لہجہ سخت اور بعض مقامات پر طنزیہ بھی بتایا گیا ہے۔ انہوں نے روسی سرزمین پر یوکرین کے حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے پیوٹن پر تنقید کی اور کہا کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باعث ان پر عمر کے اثرات بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔

یوکرینی صدر نے خط میں براہ راست ملاقات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس جنگ کے خاتمے کے لیے براہ راست بات چیت چاہتے ہیں۔

دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر زیلنسکی جب چاہیں ماسکو آ کر صدر پیوٹن سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ابھی تک یہ خط صدر پیوٹن تک نہیں پہنچا۔ روسی حکام کے مطابق خط کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم ملاقات کے مقام کے حوالے سے اختلاف برقرار ہے کیونکہ زیلنسکی پہلے ہی ماسکو جانے کی تجویز مسترد کر چکے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close