امریکی جہاز ایک انچ بھی آگے بڑھا تو ۔۔۔ ایران نے بڑی وارننگ دیدی

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور سینیئر مذاکرات کار باقر قالیباف نے واشنگٹن کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول برقرار ہے اور امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ایک بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ ہے۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ دوسرے ممالک کے جہاز تو اس اہم راستے سے گزر سکیں مگر ایران کو اس کی اجازت نہ ہو۔

باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کیا کہ اگر ان کا ایک بھی بحری جہاز (مائن سوئپر) ایک انچ بھی آگے بڑھا تو ایران براہِ راست فائرنگ کرے گا، اور یہ بات وہ امریکی وفد کو دو ٹوک الفاظ میں بتا چکے ہیں۔

باقر قالیباف نے حالیہ جنگی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اب تک دشمن کے 170 سے 180 ڈرونز تباہ کیے جا چکے ہیں، جبکہ امریکا کے جدید ترین ایف 35 لڑاکا طیارے کو مار گرانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ دشمن اب زمینی حقیقت اور ایران کی طاقت کو اچھی طرح سمجھ گیا ہوگا۔

مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ بات چیت میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے لیکن اب بھی دونوں فریقین کے درمیان بہت بڑا فاصلہ موجود ہے جسے ختم کرنا فی الحال مشکل نظر آتا ہے۔

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز صرف اسی صورت میں ہوگا جب امریکا اپنے حد سے زیادہ مطالبات سے پیچھے ہٹے گا۔

کونسل کے مطابق جنگ کے شروع میں ہی امریکا نے جنگ بندی کے لیے پیغامات بھیجنا شروع کر دیے تھے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دس نکات پر مبنی ایک فریم ورک بھی تسلیم کیا تھا، جس کے بعد ایران پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات پر راضی ہوا۔ تاہم اب امریکا نے نئی تجاویز پیش کی ہیں جن پر ایران غور کر رہا ہے لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا کیونکہ تہران اپنی قوم کے مفاد پر سمجھوتا نہیں کرے گا۔

سیکیورٹی کونسل نے مزید کہا کہ پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن خلیج میں امریکی اڈوں کے لیے سامان کی ترسیل ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

ایرانی حکام کا موقف ہے کہ جب تک امریکا ایران کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر بھی نہیں کھولا جائے گا۔ اب اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو ایران کے بتائے ہوئے روٹس پر چلنا ہوگا اور مخصوص فیس بھی ادا کرنی ہوگی۔

اس کشیدگی کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ وہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب تک 23 جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کیا جا چکا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دو ٹوک کہا ہے کہ جب تک تمام نکات پر سو فیصد اتفاق نہیں ہو جاتا، امریکی بحریہ ایرانی سمندری حدود کا محاصرہ ختم نہیں کرے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے اس سخت موقف کی وجہ سے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کا دوسرا دور کھٹائی میں پڑتا نظر آ رہا ہے، کیونکہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دباؤ میں آکر مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close