کراچی میں اربوں روپے کے بڑے ڈرامے کی اندرونی کہانی

کراچی:  پاکستان ریلویز کراچی ڈویژن نے شہر میں انسدادِ تجاوزات کی بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک ارب 42 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ریلوے اراضی واگزار کرا لی۔

ترجمان پاکستان ریلویز کراچی کے مطابق وزیرِ ریلوے حنیف عباسی اور ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ جمشید عالم کی خصوصی ہدایات پر اولڈ کراچی سرکلر ریلوے الائنمنٹ، دیہ دوزان اور اوجھا کیمپس کے قریب واقع 2.72 ایکڑ قیمتی ریلوے زمین سے غیر قانونی قبضہ ختم کرا لیا گیا۔ واگزار کرائی گئی اراضی کی مالیت ایک ارب 42 کروڑ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔

ترجمان کے مطابق یہ آپریشن ایس پی ریلوے کراچی محمد امین عالم کی نگرانی میں مکمل کیا گیا، جس میں ریلوے پولیس، ضلعی انتظامیہ اور ریلوے کے مختلف شعبوں کے افسران نے حصہ لیا۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ اراضی کراچی سرکلر ریلوے کے مختص کوریڈور کا حصہ ہے اور قانونی طور پر پاکستان ریلویز کی ملکیت ہے۔ اطلاعات کے مطابق زمین پر نجی منصوبے کی سرگرمیاں جاری تھیں اور وہاں غیر قانونی قبضہ قائم کیا گیا تھا۔

ترجمان کے مطابق عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے میں 25 مئی 2026 کو اسٹیٹس کو آرڈر میں توسیع نہ ہونے کے بعد پاکستان ریلویز نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے ریلوے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے زمین کا قبضہ واپس حاصل کر لیا۔

آپریشن کے دوران 12 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ متعلقہ افراد کے خلاف مقدمات بھی درج کر لیے گئے ہیں۔

وزیرِ ریلوے حنیف عباسی کی ہدایات کے مطابق ملک بھر میں ریلوے اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کی مہم جاری ہے اور قومی اثاثوں پر غیر قانونی قبضے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

حکام کے مطابق کراچی ڈویژن کی یہ کارروائی ریلوے اراضی کے تحفظ اور قبضہ مافیا کے خلاف جاری مہم کی ایک بڑی کامیابی ہے، جس سے قومی خزانے کے اربوں روپے مالیت کے اثاثے محفوظ بنائے گئے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close