اسلام آباد (آن لائن) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے ملک بھر میں دریاؤں کے بہاؤ میں اضافے اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 31 جولائی سے 2 اگست 2026 کے دوران ملک کے مختلف دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔
این ای او سی کے مطابق دریائے سندھ میں گڈو کے مقام پر درمیانے درجے جبکہ کالا باغ، چشمہ اور سکھر کے مقامات پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر درمیانے سے بلند درجے کے بہاؤ جبکہ خانکی اور قادرآباد کے مقامات پر نچلے سے درمیانے درجے کے بہاؤ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دریائے جہلم، راوی، کابل اور ان سے ملحقہ دریاؤں اور ندی نالوں میں بھی نچلے سے درمیانے درجے کے بہاؤ کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ جہلم، چناب اور راوی سے منسلک ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں میں شدید بہاؤ کا خطرہ ہے۔ خیبرپختونخوا کے وسطی و جنوبی اضلاع اور شمالی بلوچستان کے متعدد برساتی ندی نالوں میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
این ای او سی کے مطابق خیبرپختونخوا کے اضلاع مہمند، باجوڑ، بونیر، مردان، کرم، جنوبی وزیرستان، شانگلہ اور پشاور کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، جبکہ شمالی بلوچستان میں ناری، بولان، کنگری اور لہڑی دریاؤں میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
پنجاب کے مختلف اضلاع میں بھی شہری سیلاب اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں راولپنڈی، جہلم، گوجرانوالہ، سرگودھا، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، لاہور، اوکاڑہ، ساہیوال اور فیصل آباد شامل ہیں۔
سندھ کے مختلف اضلاع نواب شاہ، سکھر، شہید بینظیر آباد، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، سانگھڑ، خیرپور، مٹھی، میرپورخاص، عمرکوٹ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار اور تھرپارکر میں بھی شہری سیلاب اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں پشاور، نوشہرہ، چارسدہ اور مردان میں شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ ممکنہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سفر سے قبل موسم کی تازہ ترین صورتحال اور سڑکوں کی حالت سے آگاہی حاصل کریں۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیلابی پانی یا تیز بہاؤ کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے عبور نہ کریں کیونکہ کم گہرائی دکھائی دینے والا پانی بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاحتی علاقوں میں برساتی ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے نے شہریوں کو دوران سفر پینے کا پانی، خشک خوراک، ٹارچ، ابتدائی طبی امداد کا سامان، پاور بینک اور ہنگامی رابطہ نمبرز ساتھ رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق شہری بروقت معلومات کے حصول کے لیے ادارے کی آفیشل ایپ “پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ” سے استفادہ کر سکتے ہیں۔





