امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کیوبا تیزی سے اپنی ڈرون صلاحیتیں بڑھا رہا ہے اور ممکنہ طور پر امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق کیوبا نے مبینہ طور پر 300 سے زائد ڈرونز حاصل کر لیے ہیں اور وہ گوانتانامو بے میں امریکی فوجی اڈے، امریکی بحری جہازوں اور فلوریڈا کے علاقے کی ویسٹ کو ممکنہ ہدف بنانے کے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ انٹیلیجنس معلومات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کیوبا کو ایک ابھرتے ہوئے خطرے کے طور پر دیکھ رہی ہے، جس کی وجہ اس کی بڑھتی ہوئی ڈرون صلاحیتیں اور مبینہ طور پر ایرانی فوجی مشیروں کی موجودگی ہے۔
ذرائع کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے حال ہی میں کیوبا کا دورہ کیا اور وہاں حکام کو خبردار کیا کہ وہ کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی سے گریز کریں۔ انہوں نے کیوبا پر زور دیا کہ وہ امریکی پابندیوں کے خاتمے کے لیے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کرے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ کیوبا نے 2023 سے روس اور ایران سے مختلف اقسام کے حملہ آور ڈرونز حاصل کیے ہیں اور انہیں اسٹریٹجک مقامات پر تعینات کیا ہے۔ حالیہ ایک ماہ کے دوران بھی روس سے مزید ڈرونز اور فوجی سازوسامان حاصل کرنے کی کوششوں کی اطلاعات ہیں، جبکہ کیوبا مبینہ طور پر ایران کی حکمت عملی سے بھی رہنمائی لے رہا ہے۔
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال کیوبا فوری خطرہ نہیں اور نہ ہی کسی ممکنہ حملے کی تیاری کے واضح شواہد موجود ہیں، البتہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مستقبل میں صورتحال کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






