پاکستان اور بھارت کے مابین ایک بار پھر شدید لفظی جنگ چھڑ گئی ہے جس کا آغاز انڈین آرمی چیف کے ایک دھمکی آمیز بیان سے ہوا ہے۔ پاکستان نے بھارتی فوج کے سربراہ کی جانب سے پاکستان کو عالمی جغرافیے سے مٹانے کی دھمکی پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اتوار کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ ایک خود مختار جوہری ہمسایہ ملک کو جغرافیے سے مٹانے کی دھمکی دینا علمی صلاحیتوں کے دیوالیہ پن اور جنگی جنون کا واضح اظہار ہے۔
آئی ایس پی آر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا جغرافیائی خاتمہ یقیناً دو طرفہ ہو گا، کیونکہ ایک جوہری ریاست کو کسی دوسری جوہری ریاست کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی زبان بولنے کے بجائے تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اس تنازع کا آغاز ہفتے کے روز ہوا جب بھارتی فوج کے سالانہ سول، ملٹری مباحثے ’سینا سمواد 2026‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف جنرل اُپیندر دویدی سے ایک سوال پوچھا گیا۔
ان سے سوال کیا گیا کہ ”اگر پاکستان نے کچھ ایسا کیا کہ ہمیں دوبارہ آپریشن سندور کرنا پڑا تو ہم پاکستان کو کیسا جواب دیں گے؟“
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے جنرل اُپیندر دویدی نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ ”اگر پاکستان نے دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رکھی اور انڈیا مخالف سرگرمیوں سے باز نہ آیا تو اسے فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا وہ جغرافیے اور تاریخ کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔“
بھارتی آرمی چیف کی اس گیدڑ بھبکی پر پاک فوج نے اپنے جواب میں واضح کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوا چکا ہے اور یہ ایک اعلانیہ جوہری قوت ہونے کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے جغرافیے اور تاریخ کا انمٹ حصہ ہے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ بھارتی فوج کے سربراہ کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کی قیادت آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود نہ تو پاکستان کے تصور سے ہم آہنگ ہو سکی ہے اور نہ ہی اس نے تاریخ سے کوئی سبق سیکھا ہے۔
پاک فوج کے مطابق بھارت میں پائی جانے والی اسی انتہا پسند ذہنیت کی وجہ سے جنوبی ایشیا کا خطہ بار بار جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ دہلی کا یہ جارحانہ انداز دراصل پاکستان کو نقصان پہنچانے میں مسلسل ناکامی اور مایوسی پر مبنی ہے، جسے معرکہ حق کے دوران پاکستان نے پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا تھا۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کے مابین یہ کشیدگی پچھلے سال اپریل میں مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے ایک حملے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں 26 سیاح ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد انڈیا نے پاکستان کے اندر فضائی کارروائی کا دعویٰ کیا تھا جسے انہوں نے آپریشن سندور کا نام دیا تھا۔
اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ فضائی اور میزائل لڑائی ہوئی تھی، جس میں پاکستان نے بھارت کے جدید ترین رفال طیارے سمیت چھ سے زائد جنگی جہاز مار گرائے تھے۔
حال ہی میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ آپریشن سندور ابھی بند نہیں ہوا۔ اس پر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا تھا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے لیکن اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا اچھے سے جانتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






