اقتصادی جائزہ مذاکرات کیلئے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا

آئی ایم ایف کا وفد اقتصادی جائزہ مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گیا۔

 

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق مشن آج سے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی مذاکرات کا آغاز کرے گا، جس میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، بنیادی شرح سود اور ایکسچینج ریٹ پر بات ہوگی۔ اسٹیٹ بینک حکام معاشی کارکردگی پر بریفنگ دیں گے۔

 

پاکستان نے زرمبادلہ ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد رکھنے کا ہدف حاصل کر لیا ہے، وفد کو براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے، یورو بانڈ کے کامیاب اجرا اور بیرونی ذرائع سے حاصل رقوم پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔

 

وفد اسٹیٹ بینک سے مذاکرات کے بعد 25 ستمبر کو اسلام آباد جائے گا جہاں وزارت خزانہ، نجکاری، توانائی اور ایف بی آر سے مذاکرات ہوں گے۔

 

قرض پروگرام کی پانچویں قسط کے لیے مذاکرات دو ہفتے جاری رہیں گے، جس میں جون تک کی معاشی سرگرمیوں، اسٹرکچرل بینچ مارکس اور توانائی شعبے میں اصلاحات پر بات ہوگی۔ بجلی اور گیس کے سرکلر ڈیٹ سے متعلق اہداف بھی زیر بحث آئیں گے۔

 

مذاکرات کامیاب ہونے پر پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے، جس میں ای ایف ایف کی پانچویں قسط کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے 20 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔