وفاقی حکومت نے مالی سال دو ہزار چھبیس تا دو ہزار ستائیس کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد جبکہ مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت میں دس فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کو مختلف ٹیکس سلیبز میں ریلیف دیا گیا ہے، سپر ٹیکس میں بھی نرمی کی گئی ہے اور جائیداد کی خرید و فروخت پر فائلرز کے لیے ٹیکس کم کیا گیا ہے۔ دفاع کے لیے تین ہزار ارب روپے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے آٹھ سو اڑتیس ارب روپے جبکہ وزیر اعظم اپنا گھر اسکیم کے لیے اکہتر ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بجٹ میں تعلیم، صحت، ہاؤسنگ، موٹرویز، ریلوے اور گوادر سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی فنڈز رکھے گئے ہیں۔ حکومت کے مطابق بجٹ کا مقصد معاشی استحکام، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






