قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے موبائل فونز پر ٹیکسز کیلئے اقساط کا سسٹم متعارف کرانے کی ہدایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو نے وفاقی بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسمارٹ فونز پر پی ٹی اے ٹیکس کی ادائیگی کے لیے اقساط کی سہولت متعارف کرانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے دوران کمیٹی کے ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت مقامی مارکیٹ میں لاکھوں کی تعداد میں نان پی ٹی اے منظور شدہ موبائل فونز موجود ہیں، جو بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے بلاک ہیں۔
ارکان نے کہا کہ جب دنیا بھر میں صارفین کم قیمت مصنوعات بھی اقساط پر خرید سکتے ہیں، تو پاکستان میں موبائل فون ٹیکسز کے لیے یہ سہولت کیوں فراہم نہیں کی جا سکتی؟
چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ساتھ مل کر اسمارٹ فونز کے ٹیکسز اقساط میں وصول کرنے کی تجاویز پر فوری کام شروع کرے۔
اجلاس کے دوران بعض اراکینِ اسمبلی نے موجودہ ٹیکس اسٹرکچر پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ “کیا موجودہ ٹیکسوں کا مقصد صرف سرکاری ریونیو بڑھانا ہے یا پھر اس کے پیچھے مخصوص مینوفیکچررز کو تحفظ دینا ہے؟”
اس موقع پر ایف بی آر کے حکام نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ موبائل فونز پر عائد ٹیکسز سرکاری آمدن کا ایک انتہائی اہم ذریعہ ہیں۔
دوسری جانب سیکریٹری خزانہ نے کمیٹی کو خبردار کیا کہ اگر کم قیمت فونز پر ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی گئی، تو حکومت کو تقریباً 1 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑے گا، جسے پورا کرنے کے لیے رقم کسی اور مد سے وصول کرنی پڑے گی۔
تاہم کمیٹی نے صارفین کو ریلیف دینے کے لیے قسطوں کی سہولت پر کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






