امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے موبائل فون خریدنے والوں کے لیے ایک بری خبر سامنے آئی ہےکیونکہ کمپنی ایپل نے اشارہ دیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس کی مشہور مصنوعات آئی فون، میک اور آئی پیڈ کی قیمتوں میں
اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کک کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے کے باعث قیمتیں بڑھانا اب تقریباً ناگزیر ہو چکا ہے۔
ٹم کوک نے مشہور اخبار وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ فون اور کمپیوٹر کے اندر لگنے والی میموری اور اسٹوریج چپس کی قیمتیں مارکیٹ میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں، اسی لیے کمپنی کے لیے پرانی قیمتوں پر فروخت اب ممکن نہیں رہا۔ یہ وہ اہم پرزے ہیں جو اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور لیپ ٹاپس میں استعمال ہوتے ہیں۔
موبائل اور کمپیوٹر کی دنیا میں دوسری بڑی کمپنیوں جیسے ون پلس اور نتھنگ نے پہلے ہی اپنے فون مہنگے کر دیے تھے، لیکن ایپل کمپنی نے کئی مہینوں تک اپنے گاہکوں کے لیے قیمتیں نہیں بڑھائیں۔ ٹم کوک نے کھلے دل سے اعتراف کیا کہ اب قیمتیں بڑھانا ان کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے قیمتیں بڑھانا اب ناگزیر ہو چکا ہے، ہم ان بڑی قیمتوں کے اثر کو کم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں جو ہم پر ڈالی جا رہی ہیں اور ہم نے اپنے صارفین کو اس بوجھ سے بچانے کی کوشش بھی کی ہے، لیکن اب صورتحال ایسی ہو گئی ہے کہ اسے مزید سنبھالا نہیں جا سکتا۔
اس بڑی مہنگائی کی اصل وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا کام بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بڑی بڑی کمپنیاں ایسے کمپیوٹر اور نظام بنا رہی ہیں جن کے لیے بہت زیادہ طاقتور چپس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وجہ سے چپس بنانے والی فیکٹریاں اپنا زیادہ تر سامان ان بڑی کمپنیوں کو بیچ رہی ہیں، جس سے عام موبائل اور کمپیوٹر کے لیے چپس کی کمی ہو گئی ہے اور ان کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔
ٹم کوک نے اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس وقت بازار میں چپس کی سپلائی کم ہے جبکہ دوسری طرف لوگ نئے فون اور کمپیوٹر خریدنا چاہتے ہیں، اور چپس بنانے والے ہم پر قیمتوں کا بہت بڑا بوجھ ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ ہمیں ہر حال میں میموری کی قیمتوں اور اس کی سپلائی کو عام لوگوں کے استعمال کی چیزوں کے لیے ایک مناسب سطح پر واپس لانے کی ضرورت ہے، یہی سب سے اہم بات ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایپل کی کون سی چیزیں پہلے مہنگی ہوں گی؟ کمپنی نے ابھی تک یہ صاف صاف نہیں بتایا کہ کون سا فون یا آئی پیڈ کس دن مہنگا ہوگا، لیکن اطلاعات ہیں کہ میک کمپیوٹرز اور آئی پیڈز سب سے پہلے متاثر ہو سکتے ہیں۔ حال ہی میں کمپنی نے میک منی کی ابتدائی قیمت میں بھی اضافہ کیا تھا، جسے آنے والی پالیسی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
اس سال ستمبر کے مہینے میں کمپنی اپنے نئے فون یعنی آئی فون 18 کی سیریز مارکیٹ میں لانے والی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس سیریز میں ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ اندازہ ہے کہ اگر ایپل اپنے موجودہ منافع کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو مستقبل کے کسی آئی فون پرو ماڈل کی قیمت میں تقریباً 270 ڈالر تک اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس مہنگائی کا اثر ان لوگوں پر بھی پڑے گا جو اس امید میں بیٹھے تھے کہ نیا آئی فون 18 آنے کے بعد پرانا آئی فون 17 سستا ہو جائے گا اور وہ اسے کم پیسوں میں خرید لیں گے۔ عام طور پر ایپل کمپنی نیا فون لانے کے بعد پرانے ماڈل سستے کر دیتی ہے، لیکن اس بار چپس کی مہنگائی کی وجہ سے پرانے فونز کی قیمتوں میں اتنی بڑی کمی دیکھنے کو نہیں ملے گی جو ہر سال ملا کرتی تھی۔
ٹم کک نے موجودہ صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا، ’یہ ایک صدی میں آنے والے سیلاب جیسی صورتحال ہے۔ میں نے ٹیکنالوجی سپلائی چین میں 40 سال سے زائد عرصے کے دوران کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا۔‘
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






