ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کا جنون ؛ ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آگیا

خیبر پختونخوا کے علاقے اپر سوات کی نصراللہ جھیل میں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کی کوشش ایک خطرناک حادثے میں تبدیل ہوگئی، جہاں ایک گاڑی جھیل میں جا گری۔ پولیس کے مطابق گاڑی میں سات افراد سوار تھے اور ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ڈرائیور مبینہ طور پر نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہا تھا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے گاڑی میں سوار تمام افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ خوش قسمتی سے حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ریسکیو آپریشن کے بعد گاڑی کو بھی جھیل سے نکال لیا گیا۔ پولیس نے نشے کی حالت میں ڈرائیونگ اور قانون شکنی کے الزام میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ چند روز قبل بھی سیاح ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے شوق میں ناران کے مقام پر اپنی گاڑی دریائے کنہار میں لے گئے تھے، جہاں پانی کی گہرائی کا اندازہ نہ ہونے کے باعث گاڑی دریا میں پھنس گئی تھی۔

اس واقعے میں بھی ریسکیو حکام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گاڑی میں موجود چار افراد کو بحفاظت نکال لیا تھا اور بعد ازاں گاڑی کو بھی دریا سے باہر نکال لیا گیا تھا۔ بعد میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چاروں افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا کے لیے ویڈیوز بناتے وقت اپنی اور دوسروں کی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالیں، کیونکہ معمولی سی غفلت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close