مصطفیٰ عامر قتل کیس میں اہم پیشرفت ، نیا انکشاف سامنے آگیا

سندھ ہائی کورٹ میں مقتول مصطفیٰ عامر کے قتل کیس کو جلد نمٹانے کی درخواست پر سماعت کے دوران اے ٹی سی جج کی غیر موجودگی اور ملزم کے عدم تعاون کا انکشاف ہوا۔

 

عدالت میں اسپیڈی ٹرائل سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ تفتیشی افسر محمد علی نے بتایا کہ متعلقہ انسداد دہشت گردی عدالت خالی ہے کیونکہ جج کی تعیناتی کی مدت مکمل ہو چکی ہے۔

 

اس پر جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے پہلے بھی کیس جلد نمٹانے کی ہدایت کی تھی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر عدالت فعال ہی نہیں تو ہدایت کس کو دیں، معمول میں ملزمان جلد سماعت کی درخواستیں لاتے ہیں، سمجھ نہیں آ رہا یہ کیس کیوں نہیں چلانا چاہتے۔

 

جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق ملزم ارمغان نے جیل میں عدالتی نوٹس وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

 

مقتول کی والدہ کے وکیل نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر ملزم کے وکیل کو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب ملزم خود نوٹس وصول نہیں کر رہا تو وکیل موکل کی ہدایت کے بغیر کیسے پیش ہوگا۔

 

عدالت نے ملزم کو دوبارہ نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

 

واضح رہے کہ مقتول کی والدہ نے تاخیر کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا، جبکہ اے ٹی سی نے سابقہ رپورٹ میں تاخیر کا ذمہ دار ملزم ارمغان اور اس کے وکیل کو قرار دیا تھا۔