محسن نقوی کے بیان نے نئے صوبوں پراہم سوالات اٹھا دیے

وزیر داخلہ محسن نقوی کی نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے عوامی رضامندی لینے کی تجویز نے نئی آئینی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین اب آئین کے آرٹیکل 48 اور 239 کی تشریح کو اہم قرار دے رہے ہیں۔

محسن نقوی نے لاہور میں نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب میں کہا کہ ملک کے انتظامی نظام کی تنظیم نو کسی فرد یا جماعت پر مسلط نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ اور ماہرین بحث کے بعد ڈرافٹ عوام کے سامنے رکھا جائے اور ان سے رائے لی جائے کہ وہ اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ اگرچہ انہوں نے لفظ “ریفرنڈم” استعمال نہیں کیا لیکن اس بیان کو عوامی رائے شماری کے حوالے سے دیکھا جا رہا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 48(6) کے تحت وزیراعظم قومی اہمیت کے معاملے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری کے بعد ریفرنڈم کرا سکتے ہیں۔ تاہم اس میں واضح نہیں کہ ریفرنڈم سے نیا صوبہ بنایا یا صوبائی حدود تبدیل کی جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب آرٹیکل 239(4) اور (5) کے مطابق صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے پارلیمنٹ کی مطلوبہ اکثریت کے ساتھ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت بھی ضروری ہے۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوال یہ ہے کہ کیا آرٹیکل 48 کا عمومی اختیار آرٹیکل 239 کے مخصوص طریقہ کار کو ختم کر سکتا ہے۔

محسن نقوی نے نئے صوبوں کے ساتھ انتظامی یونٹس کا بھی ذکر کیا ہے۔ اب بحث صرف صوبوں کی ضرورت تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ بھی زیر غور ہے کہ آیا ریفرنڈم سے وفاق کی تنظیم نو کا سیاسی مینڈیٹ مل سکتا ہے یا اس کے لیے آئینی طریقہ کار لازمی ہوگا۔