آزادی صرف جشن نہیں، مقاصد کو حقیقت بنانا قومی ذمہ داری ہے، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد (آن لائن) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے یومِ آزادی کے موقع پر قوم پر زور دیا ہے کہ آزادی کے مقاصد کو یاد رکھا جائے اور اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم کو قومی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔

میڈیا سیل جے یو آئی سے جاری بیان میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آزادی صرف جشن منانے کا نام نہیں بلکہ آزادی کے مقاصد کو حقیقت بنانا بھی قومی ذمہ داری ہے۔ آزادی کے جشن کی آڑ میں بنیادی مقاصد سے آنکھیں چرانا قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ 1947ء میں اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم کی بنیاد پر پاکستان معرضِ وجود میں آیا، لیکن 1971ء میں بنگلہ دیش کے قیام کی صورت میں پاکستان کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا۔ افسوس ہے کہ ہمیں ایک قوم بن کر زندگی گزارنی تھی، مگر 79 سال گزرنے کے باوجود ہم ایک قوم نہیں بن سکے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اتحاد کا تقاضا ہے کہ علاقائی، لسانی اور گروہی تقسیم سے بالاتر ہوکر پاکستانی قوم بن کر آگے بڑھا جائے۔ یقینِ محکم کا تقاضا یہ ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کے نام اور اسلام و دین کے تصور کے تحت بننے والے پاکستان کے مقصد کو سمجھا جائے۔

قائد جمعیت نے کہا کہ قیامِ پاکستان کا مقصد اسلام، خوشحال معیشت اور مستحکم جمہوریت کا قیام تھا، تاہم یہ تینوں مقاصد تاحال شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکے۔ قرآن و سنت کے طلبگار محرومی کا اظہار کر رہے ہیں، معیشت کی بات کرنے والے مشکلات کا شکار ہیں اور جمہوریت کی بات کرنے والے مایوس بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی ایک طبقے کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار قرار دینا کافی نہیں، بحیثیت قوم ہم سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک قوم کی حیثیت سے زندہ رہنے، مستحکم نظریے اور خوشحال معیشت کے ساتھ پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے مزید محنت کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم کو قومی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جس جذبے اور تصور کے ساتھ آزادی حاصل کی گئی تھی، اسے حقیقت میں تبدیل کرنا ہوگا۔ پاکستان ہمارے اکابر کی قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہوا، اس لیے ان قربانیوں کی بے توقیری نہیں کی جانی چاہیے۔