نوجوانوں کو ڈنڈے دینے ہیں یا لیپ ٹاپ؟ احسن اقبال

نارووال (آن لائن) وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پچھلے دو سالوں میں پاکستان کی معیشت کو استحکام کے راستے پر گامزن کیا ہے، اس وقت اگر ہم نے ملک کو معاشی طور پر آگے لے کر جانا ہے تو اس کی اولین شرط امن اور استحکام ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ جس ملک کے اندر بدامنی، سیاسی بے یقینی، سیاسی انتشار اور سڑکوں کے اوپر غل غپاڑہ ہو، وہاں کون سا بیرونی سرمایہ کار ہے جو ایک ڈالر کی بھی سرمایہ کاری کرے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے مستقبل اور نوجوانوں کے مستقبل کے لیے نوجوانوں کو یونیورسٹیوں سے گھسیٹ کر سڑکوں پر نہیں لانا، ہمیں نوجوانوں کو کلاس رومز اور لیبارٹریوں میں جدید ہنر دینے ہیں تاکہ نوجوان آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے دور میں اپنے لیے اور ملک کے لیے نیا مستقبل تعمیر کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ دو مختلف طرز سیاست کی جنگ ہے، پی ٹی آئی نوجوانوں کو یونیورسٹیوں سے نکال کر ہاتھوں میں ڈنڈے دے کر تحریک پیدا کر رہی ہے، اسی طرح ماضی میں وہ کہتے تھے کہ ہم نوجوانوں کو مرغیاں اور انڈے دیں گے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہم کہتے ہیں نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دینے چاہئیں، انہیں ڈیجیٹل سکلز دینے چاہئیں، یہ دو مختلف سیاست کے نظریات ہیں، ایک ترقی کا نظریہ ہے اور ایک تشدد اور نفرت کا نظریہ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی میں سنجیدہ لوگ خود اپنے آپ سے پوچھیں، ملک اس طرح کی منفی، انتشار اور فساد کی سیاست کا متحمل ہوسکتا ہے؟ ہمیں اس وقت امن اور یکجہتی چاہیے، ہمارے گرد آپ دیکھیں کس طرح جنگوں کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان اس وقت وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں سے امن اور استحکام کا خطے میں جزیرہ ہے، ہمارا دشمن یہ چاہتا ہے جسے معرکہ حق میں ہم نے شکست دی ہے کہ وہ ہمارے امن اور استحکام کو انتشار میں تبدیل کرے، اسی لیے وہ دہشت گردی کی فنڈنگ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو وہ دہشت گردی کی جنگ ہے جسے ہم لڑ رہے ہیں، دوسری طرف سیاسی دہشت گردی شروع کر دی جائے جس کا مقصد یہ ہو کہ دارالخلافہ کو سومنات بنانے کی دھمکیاں دیں، تو پھر آپ پاکستان کے دشمنوں کے آلہ کار بن رہے ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ عام آدمی یا پاکستان کے عوام اس قسم کی منفی سیاست اور منفی ہتھکنڈوں کی پشت پر نہیں ہے۔ پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ پاکستان کو چلنے دو، پاکستان کو آگے بڑھنے دو، پاکستان کو ترقی کرنے دو، پاکستان میں امن کو برقرار رہنے دو، پاکستان میں عدم استحکام نہ پیدا کرو، یہ عام پاکستانی کی آواز ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے انتشار اور سیاسی بے یقینی پھیلائی تو یہ معیشت جو مشکل سے سنبھلی ہے، ایک دفعہ پھر خدانخواستہ معیشت بگڑنا شروع ہوگئی تو اس کی قیمت پی ٹی آئی کے لیڈر ادا نہیں کریں گے، وہ تو اپنے بڑے بڑے گھروں میں ٹھنڈے کمروں میں رہیں گے، اس کی قیمت عام غریب آدمی اور پاکستان کے نوجوان ادا کریں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عام آدمی اور نوجوانوں کے، 26 کروڑ لوگوں کے مستقبل کا دارومدار اسی پر ہے، میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے جو تاریخ آگے کی ہے وہ شاید اسی مایوسی کی وجہ سے کی ہے، عام آدمی اس طرز سیاست کی حمایت نہیں کر رہا۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ پی ٹی آئی اور تمام اپوزیشن کی جماعتوں کو کہا ہے کہ ایک جمہوری عمل کا تقاضا ہوتا ہے، آپ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرتے ہیں۔ ہمارے خلاف پی ٹی آئی کے دور میں بدترین انتقامی کارروائیاں ہوئی ہیں، میں نے بھی جیل کاٹی ہے، ہمارے ہر لیڈر نے جھوٹے مقدموں میں جیلیں بھگتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لیکن ہم نے اپنے مقدمے عدالتوں میں لڑے، اپنے مقدمے پارلیمنٹ کے اندر لڑے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں سرخرو کیا۔ پی ٹی آئی کے لیڈر اور بانی جو ہیں وہ سیاسی قیدی نہیں ہے، ہم نے کسی ایم پی او کے تحت انہیں گرفتار نہیں کیا ہوا، ہم نے کسی انتقامی آرڈر کے تحت انہیں حراست میں نہیں رکھا ہوا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ انہیں عدالت نے ایک مقدمے میں سزا دی ہے جس میں 190 ملین پاؤنڈ، جو تقریباً 60 ارب روپے بنتے ہیں، یہ جرم امریکہ یا یورپ میں کوئی سیاستدان کرے تو میں تو ساری عمر کسی کو شکل دکھانے کے قابل نہ رہے۔