لاہور: نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر سنجیدہ مذاکرات ہونے چاہئیں اور نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی اس کے لیے اپنا پلیٹ فارم فراہم کرنے کو تیار ہے، یہ کہنا کہ نئے صوبے نہیں بن سکتے، درست نہیں۔
لاہور میں نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے چیئرمین محمود مولوی، سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اور سابق میئر کراچی وسیم اختر نے بھی نئے صوبوں کے معاملے پر پریس کانفرنس کی۔
محمود مولوی نے کہا کہ جہاں نئے صوبوں پر اعتراضات ہیں وہاں انتظامی یونٹس قائم کیے جا سکتے ہیں جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں میں نئے صوبوں سے متعلق قراردادیں موجود ہیں۔
انہوں نے بلوچستان اور سندھ میں تقسیم کے حوالے سے ریفرنڈم کی تجویز بھی دی۔فواد چوہدری نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان قومی ڈائیلاگ ضروری ہے جبکہ یہ کہنا کہ نئے صوبے نہیں بن سکتے، درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر سنجیدہ مذاکرات ہونے چاہئیں اور نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی اس کے لیے اپنا پلیٹ فارم فراہم کرنے کو تیار ہے۔
سابق میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ ماضی میں مختلف طریقے آزمائے گئے لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، سندھ کو تقسیم نہیں کیا جائے گا تاہم انتظامی یونٹس بننے سے عوامی مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
سابق گورنر پنجاب عمران اسماعیل نے کہا کہ ملک میں اصلاحات کے لیے بانی پی ٹی آئی کی شمولیت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ سے ملاقات کے لیے درخواست دائر کرے گی تاکہ انہیں مذاکرات کے عمل میں شامل کیا جا سکے۔
محمد علی درانی نے کہا کہ بہاولپور، جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبوں سے متعلق قراردادیں موجود ہیں تاہم موجودہ سیاسی جماعتیں ان قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کر رہیں۔ انہوں نے موجودہ سیاسی نظام کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔






