تعلیمی اداروں میں 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجی تعلیمی اداروں میں 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم دینے کے معاملے پر دائر درخواست پر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ریگولیٹری اتھارٹی سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 10 جولائی سے قبل نجی اسکولوں سے 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کرنے کی تفصیلات طلب کی جائیں۔

پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نجی اسکولوں کو نہ فنڈ فراہم کرتی ہے اور نہ ہی کوئی کوٹہ دیتی ہے، جبکہ مفت تعلیم کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

سماعت کے دوران پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر بھی عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ اس پالیسی سے نجی اسکول بند ہونا شروع ہو جائیں گے۔

اس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ ایک کلاس میں کتنے بچے ہوتے ہیں؟ اگر ایک کلاس میں 18 طلبہ کو پڑھایا جا سکتا ہے تو مزید دو بچوں کو پڑھانے میں کیا مسئلہ ہے؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر جگہ نہیں تو اسکول بند کر دیں۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے مزید کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بچوں کو تعلیم دینا ہے، اب یہ کہنا درست نہیں کہ مفت تعلیم فراہم نہ کی جائے۔

عدالت نے پرائیویٹ اسکولز کی ریگولیٹری اتھارٹی سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 3 اگست تک ملتوی کر دی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close