پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی سے بعد جمعہ کی چھٹی اور کفایت شعاری اقدامات ختم ؟ اہم فیصلہ

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بہت بڑی کمی کر دی گئی ہے، جس کے بعد حکومت نے ملک میں لگی کئی سخت پابندیاں اور کفایت شعاری کے اقدامات واپس لے لیے ہیں۔

حکومت کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 74 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کی بڑی کمی کی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 373 روپے سے کم ہو کر 299 روپے، اور ڈیزل کی قیمت 378 روپے سے کم ہو کر 311 روپے فی لیٹر پر آ گئی ہے۔

قیمتوں میں اس بڑی کمی کی اصل وجہ عالمی منڈی میں تیل کا سستا ہونا اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا خاتمہ بتایا جا رہا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں عوام نے جس صبر کا مظاہرہ کیا، یہ کمی اسی کا نتیجہ ہے اور عالمی مارکیٹ کا یہ فائدہ عوام تک منتقل کیا جا رہا ہے۔

تیل سستا ہوتے ہی ملک میں کاروبار اور سرکاری دفاتر کے حوالے سے بھی بعض فیصلوں میں نرمی کی گئی ہے۔ حکومت نے پیٹرول بچانے کے لیے جو جمعہ کی اضافی چھٹی شروع کی تھی، اسے ختم کر دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی سرکاری افسران کے لیے پیٹرول کی جو کٹوتیاں کی گئی تھیں وہ بھی بحال کر دی گئی ہیں، اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو بند کرنے کا فیصلہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔

تاہم بجلی اور توانائی بچانے کے لیے یہ ہدایت برقرار رکھی گئی ہے کہ تمام دکانیں اور کاروباری مراکز رات نو بجے ہی بند ہوں گے، جبکہ شادی ہالوں اور دیگر تقریبات کے ہالز کو رات دس بجے تک بند کرنے کی پرانی ہدایت پر عمل جاری رہے گا۔

دوسری طرف پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کے اثرات مارکیٹ میں بھی نظر آنے لگے ہیں اور گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے فوری طور پر سامان لانے لے جانے والے ٹرکوں اور گاڑیوں کے کرایوں میں دس فیصد کمی کا اعلان کر دیا ہے۔

اگر پچھلے چند مہینوں کی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو عالمی سطح پر کشیدگی کے باعث پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

اس دوران مختلف اوقات میں قیمتیں بڑھتی رہیں اور پھر عالمی مارکیٹ میں بہتری کے بعد بتدریج کمی کا رجحان سامنے آیا۔

اب امن معاہدے کے بعد تیل کی قیمتیں نمایاں طور پر نیچے آ گئی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس پورے بحران کے دوران عوامی مشکلات کو کم کرنے کے لیے مختلف انتظامی اور مالی اقدامات کیے گئے اور اب معاشی استحکام کے لیے مزید اصلاحات جاری رکھی جائیں گی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close