نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پاک ایران سفارتی مذاکرات اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے انتہائی اہم تفصیلات سامنے رکھ دی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ محرم الحرام کی آمد کی وجہ سے ایران کے ساتھ دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں کچھ تاخیر ہوئی ہے، کیونکہ جولائی کے پہلے ہفتے میں شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی رسومات ادا کی جانی ہیں۔
اسحاق ڈار نے ان افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا کہ مذاکرات میں کوئی تعطل آیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کے عمل میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی بلکہ طے شدہ پلان کے مطابق اب ہمیں 60 روز کے اندر اندر دوسرے مرحلے کے ان مذاکرات کو ہر صورت مکمل کرنا ہے۔
وزیرِ خارجہ نے سوئٹزرلینڈ کے مجوزہ دورے اور معاہدے پر اہم پیش رفت سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ صبح جب ایرانی صدر نے امن معاہدے پر باقاعدہ دستخط کر دیے، تو اس کے بعد اب سوئٹزرلینڈ جانے کا کوئی مقصد باقی نہیں رہا تھا، اسی لیے ہم نے سوئٹزرلینڈ میں موجود اپنے تمام آفیشلز کو وطن واپس بلا لیا ہے۔
ملکی معیشت اور عوامی ریلیف کے حوالے سے ایک بڑی خوشخبری سناتے ہوئے اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ حکومت عالمی مارکیٹ کے اثرات کے تحت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرنے جا رہی ہے جس سے عوام کو بڑا معاشی ریلیف ملے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






