آزاد کشمیر کی عوام دھرنے ختم کر کے مذاکرات کریں، نواز شریف

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی سیاسی اور انتظامی صورتحال پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر اور پارٹی کی سینئر قیادت نے شرکت کی۔

اجلاس میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر نواز شریف نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) مسئلہ کشمیر کے حوالے سے واضح اور اصولی مؤقف رکھتی ہے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ آزاد کشمیر کے عوام کو آئینی و بنیادی حقوق کی فراہمی اور تعمیر و ترقی کے منصوبوں میں ترجیح دی ہے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال پیدا نہیں ہونی چاہیے تھی، یہ ملک ہم سب کا ہے اور عوامی حقوق کے لیے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر جدوجہد کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) تمام جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا کرے گی۔ نواز شریف نے کشمیری عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے نظریاتی اور فکری رشتے کو برقرار رکھتے ہوئے پرامن رہیں اور دھرنوں کے خاتمے کے بعد بامقصد مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی جانب بڑھیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ آزاد کشمیر کے عوام، حکومت پاکستان، آزاد کشمیر حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں مل کر خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کردار ادا کریں گی۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ہمیں بھائی چارے، رواداری اور برداشت کی سیاست کو فروغ دینا چاہیے۔ کشمیری عوام نے پاکستان کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں اور پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی جدوجہد کو اپنی جدوجہد سمجھتے ہوئے ان کا ساتھ دیا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت پاکستان اور دفاعی اداروں نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، اس لیے کسی ایسے عمل کا حصہ نہیں بننا چاہیے جو دشمن عناصر کے مذموم مقاصد کو تقویت پہنچانے کا سبب بنے۔

اجلاس میں آزاد کشمیر کے حالیہ واقعات میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

اجلاس کے دوران گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں انتخابی مہم کو مؤثر انداز میں چلانے پر وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close