کسانوں کی لاٹری نکل آئی! کسان کارڈ سے لے کر الیکٹرک بسیں

لاہور: پنجاب اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کر دیا گیا، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز شامل ہے۔ بجٹ اجلاس ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت شروع ہوا، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی موجود تھیں۔

وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ پیش کیا۔ اجلاس کے آغاز پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور ایوان میں نعرے بازی شروع کر دی۔ بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نشستوں سے اٹھ کر سپیکر ڈائس کے قریب جمع ہو گئے اور “جعلی بجٹ نامنظور” کے نعرے لگائے۔ اس دوران “شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو” کے نعرے بھی لگائے گئے، جبکہ پلے کارڈز بھی دکھائے گئے۔

بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت مالی نظم و ضبط، کفایت شعاری اور شفافیت پر عمل پیرا ہے۔ ان کے مطابق کابینہ اور سیکرٹریز نے تین ماہ کی تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی گئی ہے۔ سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 60 فیصد کمی سے بھی قومی خزانے کو بچت حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مجموعی اخراجات میں صرف 3.1 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ روزمرہ اخراجات میں 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے لیے 1155 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں، جن میں تنخواہوں کے لیے 650 ارب روپے اور پنشن کے لیے 505 ارب روپے شامل ہیں۔

بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے بھی خطیر رقوم مختص کی گئی ہیں جن میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لیے 25 ارب، پولیس کے لیے 12 ارب 88 کروڑ، ٹرانسپورٹ کے لیے 78 ارب 50 کروڑ اور سکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مجموعی طور پر 252 ارب روپے شامل ہیں۔

تعلیم، ہنر اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے متعدد پروگرام متعارف کرائے گئے ہیں۔ چیف منسٹر اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام، فرنٹیئر ٹیک اسکلز پروگرام اور “اسکلز فار گلوبل نیڈز” کے تحت لاکھوں نوجوانوں کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق ان پروگرامز سے ملکی و غیر ملکی روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوگا۔

پنجاب میں 2000 الیکٹرک بسیں، ماس ٹرانزٹ سسٹم، اور سمارٹ سیف سٹیز منصوبوں کی توسیع بھی بجٹ کا حصہ ہے۔ ریلوے اور آبپاشی کے نظام کی بہتری کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سماجی تحفظ کے لیے ہمت کارڈ، راشن کارڈ، دھی رانی پروگرام، منیارٹی کارڈ اور بزرگ شہریوں کے لیے عافیت اولڈ ایج ہوم جیسے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز رکھے گئے ہیں۔ رمضان نگہبان پیکج کے تحت لاکھوں خاندانوں کو مالی امداد فراہم کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔

زراعت کے شعبے میں کسان کارڈ، گرین ٹریکٹر پروگرام، واٹر ایفیشنٹ ایگریکلچر اور لائیو اسٹاک کارڈ سمیت متعدد اسکیموں کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت نے کسانوں اور دیہی معیشت کی بہتری کے لیے خصوصی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پنجاب کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے اور حکومت کا مقصد عوام کو ریلیف، روزگار اور بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close