انمول پنکی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے ، کب تک ؟ تاریخ سامنے آگئی

کوکین کوئین انمول عرف پنکی کا 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کی مقامی عدالت میں بین الصوبائی منشیات فروش انمول عرف پنکی کو پیش کیا گیا، جہاں تھانہ بغدادی پولیس نے ملزمہ کے قتل کیس میں مزید ریمانڈ کی استدعا کی۔

سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کے نیٹ ورک میں نائیجیریا کے جرائم پیشہ افراد بھی شامل ہیں، اور اس کے موبائل فون سے 800 افراد پر مشتمل ایک فہرست بھی ملی ہے، جبکہ اس کا نیٹ ورک پنجاب اور لاہور تک پھیلا ہوا ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ نے منشیات کا اپنا ایک “برانڈ” بنایا ہوا تھا، اور پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ایجنسیاں طویل عرصے سے اس کی تلاش میں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ کارروائی میں ملزمہ کی نشاندہی پر مزید منشیات برآمد کی گئی ہیں اور 11 مزید مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔

افسر نے مزید بتایا کہ ملزمہ اصل میں لاہور کی رہائشی ہے لیکن اس کے شناختی کارڈ پر کراچی کا پتہ درج ہے، جبکہ اس کا پرانا ڈیٹا اس کے سابق شوہر نے بلاک کر رکھا تھا۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ملزمہ 15 سال سے یہ نیٹ ورک چلا رہی ہے اور قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے اس نے پنجاب میں ایک ڈی ایس پی سے بھی شادی کی تھی، جبکہ اس نے مجموعی طور پر 3 شادیاں کیں جن کا نادرا ریکارڈ میں اندراج موجود نہیں۔

عدالت میں جب تفتیشی افسر سے سوال کیا گیا کہ قتل کیس میں کیا پیش رفت ہوئی ہے تو انہوں نے بتایا کہ مقتول کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی، تاہم لاش سے ملزمہ کے برانڈ کی منشیات کی ڈبی برآمد ہوئی جس سے لنک جوڑا جا رہا ہے۔

ملزمہ نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ اسے 20 سے 22 دن قبل لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا اور ایک گھر میں آنکھوں پر پٹی باندھ کر رکھا گیا۔ اس کے مطابق گرفتاری ظاہر کیے جانے والے دن اس کی پٹی ہٹائی گئی اور اسے دروازہ کھولنے کے لیے کہا گیا، جبکہ اس پر نام لینے اور دباؤ ڈالنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

ملزمہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے ریمانڈ ختم ہونے کے باوجود اسے پیش نہیں کیا اور ایک دن غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، جبکہ قتل کا واقعہ 7 اپریل کو ہوا اور ایف آئی آر 9 اپریل کو درج ہوئی، اس وقت ملزمہ لاہور میں موجود تھی۔

وکیل کے دلائل میں یہ بھی کہا گیا کہ منشیات کی برآمدگی کے حوالے سے پولیس کا مؤقف درست نہیں اور تمام مقدمات جھوٹے ہیں۔

جج نے ریمارکس دیے کہ ملزمہ کا 3 دن کا ریمانڈ تھا اور اسے مقررہ وقت پر ہی پیش کیا گیا ہے، اس میں کسی عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

عدالت کے حکم پر کیس سے جڑے دو ملزمان ذیشان اور سہیل کو بھی پیش کیا گیا، جنہوں نے بتایا کہ وہ دونوں سگے بھائی ہیں اور ایزی پیسہ شاپ چلاتے ہیں۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ان دونوں بھائیوں کی دکان سے ملزمہ کے نیٹ ورک کے لیے کروڑوں روپے کی غیر قانونی ٹرانزیکشنز کی گئی ہیں، جبکہ ایک اور ملزم قمر تاحال مفرور ہے۔

تفتیشی افسر نے مزید ریمانڈ کی استدعا کی تاکہ مفرور ملزم کی گرفتاری اور تفتیش مکمل کی جا سکے، جبکہ وکیلِ صفائی نے ملزمہ کو جیل بھیجنے کی درخواست کی۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا اور بعد ازاں سٹی کورٹ نے انمول عرف پنکی کا 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔ ملزمہ کو ایس آئی یو پولیس کے حوالے کیا گیا، جبکہ 12 مقدمات میں فیصلہ تاحال محفوظ ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close