سائبر ہتھیار… مستقبل کی جنگیں کتنی خطرناک ہوں گی؟

معرکۂ حق کے دوران پاکستان نے فضائی اور زمینی محاذ کے ساتھ ساتھ سائبر اسپیس میں بھی مؤثر دفاعی اور جارحانہ حکمت عملی اپنائی، جس میں پاک فضائیہ اور سائبر سیکیورٹی یونٹس نے نمایاں کردار ادا کیا۔

اس دوران آپریشن سالار سے متعلق دعووں میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سائبر کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کی بعض ویب سائٹس متاثر ہوئیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام “باخبر سویرا” میں سائبر سیکیورٹی ماہر عبدالقادر نے کہا کہ جدید دور میں جنگ صرف میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ اب “انٹیگریٹڈ وار فیئر” کے تحت سائبر حملے، معلوماتی جنگ اور ڈیجیٹل نگرانی بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سائبر حملوں کے ذریعے بغیر براہ راست تصادم کے اہم نظاموں کو متاثر کیا جا سکتا ہے، جن میں بینکنگ، اسٹاک مارکیٹ، ٹرانسپورٹ اور دفاعی نظام شامل ہیں۔

ماہر کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران بھی سائبر سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا، جہاں مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ویب سائٹس کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت (AI) اور خودکار نظاموں کی ترقی کے باعث سائبر جنگیں مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتی ہیں، اس لیے ممالک کے لیے جدید ڈیجیٹل سیکیورٹی نظام اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close