اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سی ڈی اے کو 4 ہفتوں میں کچی آبادیوں کی ریگولرائزیشن پالیسی بنانے کا حکم دے دیا۔کچی آبادیوں کی ریگولرائزیشن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سی ڈی اے کوپالیسی بنانیکا آخری موقع دے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ استدعا کیا ہے؟ کیا اسلام آباد میں کچی آبادیوں کیلئے کوئی جگہ مختص ہے؟ وکیل نے کہا کہ اسلام آباد کی 1995 سے آج تک کی ہاسنگ پالیسی میں کچی آبادیوں کو تسلیم کیا گیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ کچی آبادیاں اسلام آباد کے ماسٹر پلان کا حصہ نہیں تھیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ 2001 اور 2016 کی پالیسی کے باوجود بے گھر کیا جا رہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پالیسی کے ہوتے ہوئے مسئلہ کیا ہے؟ وکیل نے کہا کہ عدالتی حکم سے پالیسی پر عملدرآمد ممکن ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے ذریعے کچی آبادیوں کی ریگولرائزیشن کا کہا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ پچھلی بار کہا گیا کہ جو حکم عدالت دے گی وہ قبول ہو گا، سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ اسلام آباد میں کچی آبادی کے نام پر دی گئی جگہ کا غلط استعمال ہو رہا ہے، بعد ازاں عدالت نے پالیسی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 4 ہفتوں تک ملتوی کر دی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






