اہر معاشیات ڈاکٹر خاقان نجیب نے ملک میں بجلی لوڈشیڈنگ کی وجہ بتا دی
ماہر معاشیات ڈاکٹر خاقان نجیب نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آج کسی نے مجھے یکم جنوری 1985بروز جمعرات کا اخبارشیئر کیا اس میں اس وقت کے وزیر منصوبہ بندی ڈاکٹر محبوب الحق کا بیان تھا کہ انشاءاللہ 1986تک پاکستان سے لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی، آج ٹھیک 40سال بعد آپ مجھ سے یہی سوال پوچھ رہی ہیں کہ پاکستان میں لوڈشیڈنگ کیوں ہورہی ہے۔
ماہر معاشیات کاکہناتھا کہ شارٹ ٹر م میں یہ بات توواضح ہے کہ ہمارے ایل این جی کے 9کارگوز آتے تھے جن سے سینٹرل پلانٹس چلتے تھے اور وہ بجلی فراہم کرتے تھے ،لیکن ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث وہ تمام پلانٹس تقریباًہزار ایم ایم سی ایف ڈی سی سسٹم سے نکل گیا ہے،ان کاکہناتھا کہ ایل این جی کے یہ پاور پلانٹس پیک آور میں شام 6سے 9چلائے جاتے تھے۔ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہناتھا کہ جنگ کی وجہ سے قطر کے 2ایریاز مکمل بند ہو گئے اورپھر آبنائے ہرمزبند ہوگیا،جب وہ 9ایل این جی کارگوز سسٹم سے نکلے جس سے ایل این جی پر چلنے والے سینٹرل پلانٹس کی بندش سے 15سے 20فیصد بجلی سسٹم سے نکل گئی،ان کاکہناتھا کہ سولر کی وجہ سےدن تو گزر جاتا ہےتو جب ریمپ اپ کرنے کی باری آتی ہے تو ایل این جی ہے نہیں،اتھارٹیز کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس زیادہ ذخیرہ نہیں ہے،اس لئے کوئلے اور ڈیزل سے بجلی نہیں بنا سکتے ۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






