دہلی: بھارت میں کھانوں کے ذائقے کو بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی چٹنیاں بنائی جاتی ہیں، لیکن بھارتی ریاست اڑیسہ کے ایک علاقے میں ایسی چٹنی تیار کی جاتی ہے جس کے بارے میں جان کر بہت سے لوگ حیران رہ جائیں گے۔ یہاں سرخ چیونٹیوں اور ان کے بچوں کو درختوں پر بنے گھونسلوں سے جمع کرکے ایک تیز اور کھٹی چٹنی تیار کی جاتی ہے۔ یہ انوکھا ذائقہ دار پکوان وہاں کے لوگ نسل در نسل کھاتے چلے آ رہے ہیں اور مقامی ثقافت کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔
اڑیسہ کے ضلع میور بھنج میں سرخ بنکر چیونٹیاں، جنہیں مقامی طور پر کائی کہا جاتا ہے، اس چٹنی کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔ مقامی قبائلی برادریاں کئی نسلوں سے اس چٹنی کو اپنے کھانوں کا حصہ بناتی آئی ہیں۔
سرخ بنکر چیونٹیاں درختوں کے پتوں کو آپس میں جوڑ کر اپنے گھونسلے بناتی ہیں۔ ان چیونٹیوں کو جمع کرنا آسان کام نہیں کیونکہ گھونسلا ہلانے پر یہ کاٹ لیتی ہیں۔ یہ چیونٹیاں میور بھنج کے جنگلات میں پائی جاتی ہیں۔
عام طور پر علاقے کے لوگ صبح سویرے ان کے گھونسلے جمع کرتے ہیں، پھر چیونٹیوں اور گھونسلوں کو صاف کرکے دھویا اور خشک کیا جاتا ہے۔
یہ کام صرف گھریلو استعمال تک محدود نہیں بلکہ بعض لوگ ان چیونٹیوں کو فروخت بھی کرتے ہیں، جس سے مقامی خاندانوں کو اضافی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔
چٹنی بنانے کا طریقہ بھی بہت روایتی ہے۔ اسے تیار کرنے کے لیے پہلے تمام اجزا کو صاف کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد چیونٹیوں کو نمک، لہسن، ادرک اور مرچ کے ساتھ پیسا جاتا ہے۔ بعض ترکیبوں میں پودینہ بھی شامل کیا جاتا ہے۔ روایتی طور پر یہ آمیزہ پتھر کی سل پر پیسا جاتا ہے، جسے سل بٹا کہا جاتا ہے۔
اس چٹنی کا ذائقہ تیز اور کھٹا بتایا جاتا ہے۔ اسے مقامی کھانوں، چاول اور باجرے سے تیار کی جانے والی مختلف غذاؤں کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ میور بھنج کے ہفتہ وار دیہی بازاروں میں یہ چٹنی تازہ حالت میں بھی فروخت کی جاتی ہے۔






