خطرناک وبا پھیل گئی، درجنوں بچے انتقال کرگئے

سندھ بھر میں خسرہ کی وبا پھیل گئی، خسرہ سے سندھ میں 53 بچے انتقال کرگئے، جبکہ صوبے میں 2 ہزار سے زائد بچے خسرہ کا شکار ہیں، اسپتالوں میں درجنوں بچے داخل کرا دیئے گئے۔

رپورٹ کے مطبق رواں برس سندھ میں سندھ میں دو ہزار بچے خسرہ کا شکار ہوگئے جبکہ اس عرصے کے دوران 53 بچے خسرہ سے انتقال کرگئے۔ سندھ میں خسرہ کے بڑھتے کیسز پر ماہرین صحت پریشان ہیں۔ کہتے ہیں والدین اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں۔

نمائندہ خصوصی سماء سے گفتگو میں ماہرامراض اطفال ڈاکٹرخالد شفیع نے کہا کہ رواں سال سندھ بھر میں خسرہ سے دو ہزار جبکہ ملک میں خسرہ سے 96 بچے جاں بحق ہوئے، خسرہ کا شکار 53 بچے پیچیدگیوں سے انتقال کرگئے۔

ڈاکٹروں کے مطابق صوبے میں خسرے کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ والدین کی جانب سے حفاظتی ٹیکے نہ لگوانا ہے، ڈاکٹر خالد شفیع نے کہا کہ خسرہ قابلِ علاج اور قابلِ تدارک مرض ہونے کے باوجود پھیل رہا ہے، والدین اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں۔

واضح رہے کہ خسرہ ایک وبائی مرض ہے جو زیادہ تر بچوں پر حملہ آور ہوتا ہے، حفاظتی ٹیکے نہ لگوانے والے بچے اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں، نزلہ، زکام کھانسی اور خارش خسرہ کی ابتدائی علامت ہیں، خسرہ قوت مدفعت کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور شدت اختیار کرنے پر جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close