//

پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں حکومت کا کتنا حصہ ہے؟ ہوشربا رپورٹ

پٹرول کی قیمت میں اضافے کی اصل وجہ عالمی منڈی یا ٹیکسز؟ اہم سوالات سامنے آگئے

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ضرور دیکھنے میں آیا، تاہم پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ صرف عالمی قیمتیں نہیں بلکہ پٹرولیم لیوی اور دیگر حکومتی ٹیکسز بھی قرار دی جا رہی ہیں۔

اس حوالے سے کیے گئے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے حالیہ دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا، تاہم اس فیصلے کے بعد سب سے زیادہ بحث پٹرولیم لیوی کی بلند شرح پر ہو رہی ہے۔

تجزیے میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 80 روپے پٹرولیم لیوی اور 20 روپے سے زائد کسٹمز ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، تقریباً 315 روپے فی لیٹر کے پٹرول میں 100 روپے سے زائد رقم مختلف لیویز اور ڈیوٹیز کی مد میں حکومت کو جاتی ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافے کی مکمل ذمہ داری عالمی منڈی پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

مزید بتایا گیا کہ رواں سال مارچ کے آغاز میں پٹرول کی قیمت 267 روپے فی لیٹر تھی، جو بتدریج بڑھ کر 458.41 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، جبکہ ڈیزل کی قیمت 281 روپے سے بڑھ کر 520.35 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی۔

تجزیے کے مطابق حکومت ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 80 روپے پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 16 روپے کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر چارجز وصول کر رہی ہے، جس سے مجموعی حکومتی وصولی تقریباً 101 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ اسی طرح پٹرول پر تقریباً 70 روپے پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور 20 روپے کسٹمز ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے، جس سے مجموعی حکومتی وصولی تقریباً 95 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔

تجزیے میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ پٹرولیم لیوی ابتدا میں 18 فیصد جی ایس ٹی کے متبادل کے طور پر متعارف کرائی گئی تھی، کیونکہ جی ایس ٹی کی وصولی آئینی طور پر صوبوں میں تقسیم کی جاتی ہے، جبکہ پٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کے پاس رہتی ہے۔

مزید کہا گیا کہ اگر حکومت صرف 18 فیصد جی ایس ٹی کے مساوی ٹیکس وصول کرے تو پٹرولیم لیوی تقریباً 41 روپے فی لیٹر بنتی، لیکن اس وقت عوام سے تقریباً 80 روپے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں، جس سے ہر لیٹر پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔

تجزیے میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آیا وفاقی حکومت عوام پر ایسے اضافی بالواسطہ ٹیکس عائد کر رہی ہے جو آئینی طور پر صوبوں کی ذمہ داریوں سے متعلق اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، اور کیا قومی اسمبلی حکومت کو پٹرولیم لیوی کی شرح بغیر کسی مقررہ بالائی حد کے بڑھانے کا اختیار دے سکتی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close