عالمی توانائی مارکیٹ میں ایک بار پھر بے یقینی دیکھی جا رہی ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔ تازہ پیش رفت کے بعد سرمایہ کاروں نے سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عمان کے جنوب مشرقی ساحلی علاقے کے قریب ایک کارگو جہاز پر پروجیکٹائل حملے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کے نتیجے میں برینٹ خام تیل 1.52 ڈالر اضافے کے بعد 75.26 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 1.58 ڈالر بڑھ کر 71.92 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
اس سے ایک روز قبل خام تیل کی قیمتیں 27 فروری کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گئی تھیں، جو خطے میں حالیہ کشیدگی شروع ہونے سے پہلے کی سطح کے قریب سمجھی جا رہی تھیں۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ دنوں قیمتوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی معمول کے مطابق نقل و حرکت کی بحالی تھی، جس سے سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کم ہوئے تھے۔
تجزیہ کاروں نے توقع ظاہر کی تھی کہ اگر سپلائی مستحکم رہی تو خام تیل مزید سستا ہو سکتا ہے، تاہم کارگو جہاز پر حملے کے بعد مارکیٹ کا رجحان تبدیل ہو گیا اور قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ذرائع کے مطابق عمان کے قریب پیش آنے والے واقعے کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے بعض جہازوں کے انخلا کی کوششیں عارضی طور پر روک دی گئیں، جس سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور سپلائی چین کے حوالے سے خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق آج روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 58 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 45 روپے فی لیٹر تک کمی کی تجویز ہے، اس کمی کے بعد پیٹرول 241 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 266 روپے فی لیٹر مقرر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حتمی قیمتوں کا اعلان آج وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعدمتوقع ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





