ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی مد میں عوام سے 1727 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ہدف رواں مالی سال کے مقابلے میں 292 ارب روپے زیادہ ہوگا، جب کہ رواں مالی سال کی متوقع کلیکشن سے یہ ہدف 157 ارب روپے زائد ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے لیے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا 1468 ارب روپے کا ہدف بہ آسانی حاصل ہونے کا امکان ہے۔ جولائی تا مئی کے 11 ماہ کے دوران 1430 ارب روپے کی لیوی وصول کی جا چکی ہے، جب کہ جون 2026 میں مزید 140 ارب روپے جمع ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی مقررہ ہدف سے 100 ارب روپے زیادہ وصول ہونے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی وصولی 1468 ارب روپے کے بجائے 1570 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکا ایران جنگ کے دوران گزشتہ تین ماہ میں عوام سے 373 ارب روپے سے زائد پٹرولیم لیوی وصول کی گئی۔ رواں مالی سال جولائی تا مئی گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 600 ارب روپے زیادہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی جمع ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں 157 ارب روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی وصول کی گئی۔ اگست میں 103 ارب 46 کروڑ روپے اور ستمبر میں 112 ارب 85 کروڑ روپے جمع ہوئے۔
اکتوبر کے دوران 143 ارب 48 کروڑ روپے اور نومبر میں 148 ارب 36 کروڑ روپے کی پٹرولیم لیوی وصول کی گئی۔ دسمبر میں 162 ارب 46 کروڑ روپے جب کہ جنوری میں 108 ارب 76 کروڑ روپے جمع ہوئے۔
ذرائع کے مطابق امریکا ایران جنگ کے دوران فروری میں 120 ارب 39 کروڑ روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی جمع ہوئی، جب کہ مارچ میں اس مد میں 139 ارب 48 کروڑ روپے اکٹھے کیے گئے۔ اپریل کے دوران 146 ارب روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی وصول کی گئی، جب کہ گزشتہ ماہ مئی میں پی ڈی ایل کی مد میں ساڑھے 87 ارب روپے جمع کیے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جولائی سے مئی تک درآمدی پٹرول اور ڈیزل پر 686 ارب 52 کروڑ روپے سے زائد پٹرولیم لیوی وصول کی گئی، جب کہ اسی عرصے کے دوران کروڈ آئل کو ریفائن کرنے سے حاصل ہونے والے پٹرول اور ڈیزل پر 753 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اکٹھی کی گئی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






