پیٹرول کو مزید مہنگا کر دیا

اسلام آباد:   پیٹرولیم ڈویژن حکام نے بتایا ہے کہ ملک میں پیٹرول 30 دن اور ڈیزل 27 دن کے سٹاکس ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کے اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن حکام نے بریفنگ دی اور ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت سے متعلق خدشات پر جواب دیا۔پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ پیٹرول زیادہ مہنگا ہونے کی وجہ 117 روپے فی لیٹر لیوی کا نفاذ ہے، جنگ کے بعد ڈیزل 48 اور پیٹرول 56 فیصد مہنگا ہوا۔اس موقع پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے استفسار کیا کہ کیا ساری لیوی جنگ میں ہی لگانی ہے؟۔وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے جواب دیا کہ ایسی بات نہیں ہے، عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)سے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی 80،80 روپے طے ہے، جسے پوری کرنا ضروری تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرولیم سٹاکس کو یقینی بنانے کے لیے مہنگی پیٹرولیم مصنوعات بھی خریدیں، پاکستان کے پاس پیٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک اسٹاک نہیں ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پیٹرولیم اسٹاکس تو کمپنیوں کے پاس ہیں، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کریں گے۔اس پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ جنگ 28 فروری کو لگی، آپ کے پاس پیٹرول کے 5 لاکھ 80 ہزار ٹن کے اسٹاکس تھے، یہ پیٹرول اور ڈیزل تو سستے ریٹ پر خریدے گئے تھے، یہ منافع تو کمپنیوں کو سستے تیل پر ملا۔وزیر پیٹرولیم نے شرکا کو بتایا کہ ہمیں تیل کے اسٹاکس بھی برقرار رکھنے تھے، ہم آپ کو ہر کمپنی کا ڈیٹا فراہم کر دیں گے، معاملے کو ایف آئی اے بھی دیکھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، ابوظبی نے جنگ کے دنوں میں پیٹرولیم سپلائی میں مدد کی، فرٹیلائزر کو گیس دے رہے ہیں تاکہ فوڈ سیکیورٹی کا بحران نہ ہو۔پیٹرولیم ڈویژن حکام نے اجلاس میں بتایا کہ پاکستان میں یوریا تو موجود ہے تاہم ڈی اے پی کھاد کا مسئلہ بن سکتا ہے، قطر سے بڑی مشکل سے ہم نے پہلا کارگو نکال لیا ہے، اسپاٹ خریداری کو کم کررہے ہیں کیونکہ وہ بہت مہنگی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close