مظفرآباد (آئی این پی): پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آزاد کشمیر میں ترقیاتی کام دوبارہ شروع کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں کامیابی ملی تو وزیراعظم شہباز شریف سے کہوں گا کہ مجھے آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیں۔
مظفرآباد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ مجھے مظفرآباد سے پیار ہے، مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر سے بے پناہ محبت ہے۔ پاکستان میں موٹرویز، ہائی ویز اور ایکسپریس ویز بنے ہیں، لیکن یہاں آج بھی وہی سڑک ہے جو 30 سال پہلے بنی تھی۔ کوہالہ سے مظفرآباد تک ہائی وے کیوں نہیں بنائی گئی؟
انہوں نے کہا کہ جب وہ وزیراعظم تھے تو راجا فاروق حیدر آزاد کشمیر کے وزیراعظم تھے، اس وقت انہوں نے مانسہرہ سے مظفرآباد اور مظفرآباد سے میرپور تک دریائے جہلم کے ساتھ ایک خوبصورت موٹروے بنانے کی منظوری دی تھی، جو آزاد کشمیر کے لیے مسلم لیگ (ن) کا ایک بڑا تحفہ تھا۔
نواز شریف نے کہا کہ اس منصوبے سے آزاد کشمیر میں سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا جال بچھ جاتا اور علاقے میں خوشحالی آتی۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی آزاد کشمیر اور پاکستان کے دیگر صوبوں پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا یا اسلام آباد میں تفریق نہیں کی۔ ان کے لیے آزاد کشمیر بھی اتنا ہی عزیز ہے جتنا پنجاب، کیونکہ یہ ان کا دوسرا گھر ہے اور ان کے بزرگ کشمیر سے ہجرت کرکے آئے تھے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے کہا ہے کہ جیسے کسی کے گھر مہمان جاتے وقت مٹھائی یا تحفہ لے کر جاتے ہیں، ویسے ہی کشمیر کے عوام کے لیے بھی تحفہ لے کر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت بننے کی صورت میں ایک ایک ترقیاتی منصوبہ مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات میں کامیابی ملی تو ان کا دل چاہتا ہے کہ شہباز شریف سے کہیں کہ انہیں آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیں۔ اگر وہ خود وزیراعظم نہ بن سکے تو بھی ہر تین ماہ بعد مظفرآباد، راولاکوٹ اور دیگر شہروں کا دورہ کریں گے تاکہ ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کا جائزہ لے سکیں، اور اس مقصد کے لیے وزیراعظم کو بھی ساتھ لائیں گے۔
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ مظفرآباد کے لیے 10 گرین بسیں آئندہ چند روز میں پہنچ جائیں گی، جبکہ الیکٹرک بسیں بھی جلد سڑکوں پر نظر آئیں گی۔ اس کے علاوہ 15 موبائل اسپتال بھی آزاد کشمیر بھیجے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ آج بھی اگر یہاں کوئی بیمار ہو جائے تو اسے چارپائی پر اٹھا کر سڑک تک لایا جاتا ہے اور پھر اسلام آباد منتقل کیا جاتا ہے، بعض اوقات مریض راستے ہی میں دم توڑ دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے شروع کیے گئے منصوبے مکمل ہو جاتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔
نواز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لیے مزید وقت ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ان کے بعد آنے والی حکومتوں نے ترقیاتی کاموں کے بجائے صرف نعرے بازی کی اور پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) دوبارہ اقتدار میں آئی تو ماضی کی تمام کمی پوری کر دی جائے گی۔
سابق وزیراعظم نے دعا کی کہ مظفرآباد ترقی کے میدان میں اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور دیگر بڑے شہروں سے بھی آگے نکل جائے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






