اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے حریت رہنما الطاف بٹ کی رہائش گاہ جا کر ان کی والدہ محترمہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور مرحومہ کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی۔
وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل دے۔
اس موقع پر پولیٹیکل اسسٹنٹ سید عزادار حسین کاظمی، حریت کانفرنس کے سابق کنوینر محمود احمد ساغر، سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ پرویز شاہ، سابق میئر راولپنڈی سردار نسیم، ایڈیٹر کشمیر پوسٹ محی الدین ڈار، عبدالغنی صمیم، حافظ ابراہیم اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔
ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر اور حالیہ علاقائی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مظفرآباد میں پیش آنے والے واقعے، جس میں برہان حمزہ شہید ہوئے، کا بھی ذکر ہوا اور ایسے واقعات کے تدارک کیلئے فورسز کو مزید فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کشمیری حریت رہنماؤں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑا انسانی المیہ ہے کہ الطاف بٹ کی والدہ مقبوضہ کشمیر میں انتقال کر گئیں لیکن وہ اپنی والدہ کے جنازے کو کندھا تک نہ دے سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں کشمیری اپنے خاندانوں سے جدا ہو کر رہ گئے ہیں اور خوشی و غم میں شریک نہیں ہو پاتے۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وہاں کی جو صورتحال بیان کی ہے وہ دنیا کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کو پرامن خطہ جبکہ مقبوضہ کشمیر کو بھارتی فوج کا بیرک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل سے مشروط ہے اور بھارت کو جلد اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
ملاقات کے دوران محمود احمد ساغر، ایڈووکیٹ پرویز شاہ، سردار نسیم اور الطاف بٹ نے مختلف تجاویز بھی پیش کیں، جن پر وزیراعظم نے جلد کشمیری قیادت کے ساتھ تفصیلی اجلاس بلانے کی یقین دہانی کروائی۔
موجودہ صورتحال کے تناظر میں ایک کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






