مظفرآباد(پی آئی ڈی)11مئی 2026
وفاقی وزیر امور کشمیر وگلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدہ پرآج انکے نمائندگان کے ساتھ خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی ہے۔ایکشن کمیٹی کے ساتھ حکومت آزادکشمیراوروفاقی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں کئی نکات طے ہوئے تھے ان پر عملدرآمد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں آزادکشمیر کی طرف سے وزیر ایلیمنٹری وسکینڈری ایجوکیشن دیوان علی چغتائی،وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید جبکہ وفاقی حکومت کی طر ف سے میرے ساتھ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری شامل تھے۔اس حوالہ سے اب تک ہماری چھ میٹنگ ہوچکی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ جتنی جلدی اس معاہدہ پر عملدرآمد ہوا ہے اس کی مثال ہماری سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔اس پر میں آزادکشمیر کی حکومت کی سنجیدگی پر انکا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ چیف سیکرٹری آزادکشمیر نے بھی اس سلسلہ میں دن رات محنت کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس حوالہ سے خصوصی ہدایات دے رکھی ہیں۔ کشمیر کو وسائل کی فراہمی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ ہمارے 37نکات پر ہم تیزی سے عملدرآمد کی طرف بڑھ رہے ہیں اس کی مثال میں نے کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی آزادکشمیر میں اسکی مثال ملتی ہے۔ ہم آج بھی اسی جذبے کے ساتھ یہاں آئے ہیں۔ ہم نے ایکشن کمیٹی کو کہا ہے کہ ملکی اوربین الاقوامی حالات کے تناظر میں ایک اچھا پیغام دینا ہوگا۔ اسوقت پورا ملک معرکہ حق کے جشن میں مصروف ہے۔ پاکستان دنیا میں امن لانے کا مرکز بننے جا رہا ہے ساری دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے ہم بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنے ہیں۔افہام وتفہیم کے ذریعے مسائل کا حل آزادکشمیر کی بہتری کے لیے ہے۔ مہاجرین کی نشستوں کے معاملہ پر آئینی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں آزادکشمیر، وفاق اور ایکشن کمیٹی کے نمائندگان شامل ہیں۔ 14مئی کو اس کمیٹی کی میٹنگ ہونے جا رہی ہے ایکشن کمیٹی کے نمائندگان کو کہا ہے کہ آپ اس میٹنگ میں آئیں اور اپنے معاملات اس کمیٹی میں اٹھائیں تاکہ اس میں مل کر کوئی لائحہ عمل نکالا جا سکے اور ہم افہام وتفہیم کے ساتھ آگئے بڑھ سکیں۔ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے زیادہ تر نکات پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔ معاہدے کے مطابق 177ایف آئی آر واپس لے لی گئی ہیں، زخمیوں اور شہداء کے اہل خانہ کو بھی مالی معاونت فراہم کر دی گئی ہے۔ گندم کوٹہ کا معاملہ،ٹیکسز کے معاملات حل ہو چکے ہیں۔ وزراء کی تعداد کم کر دی گئی ہے اور محکمہ جات کو ضم کرتے ہوئے انکی تعداد بھی کم کر دی گئی ہے۔احتساب ایکٹ منظور ہوچکا ہے۔ اسی طرح ہر نقطہ پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے،معاملات کو قانون کے مطابق حل کرنا ہوتا ہے اور اس میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ امن کے لیے ہمیں مل کر مذاکرات کے ذریعے آگئے بڑھ سکتے ہیں۔ احتجاج کی کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ ہی عوام کو احتجاج سے کچھ حاصل ہوگا۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کروا لیں گے۔ ان خیالات کا ا ظہار انہوں نے آزادکشمیر کے وزیر ایلیمنٹری اور سکینڈری ایجوکیشن دیوان علی چغتائی، وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید، چیف سیکرٹری آزادکشمیر خوشحال خان اور سیکرٹری اطلاعات محمد راشد حنیف کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر امور کشمیر وگلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا کہ آج ایکشن کمیٹی کے نمائندگان کے ساتھ اچھے ماحول میں میٹنگ ہوئی ہے۔ ہمیں مل کر امن کے لیے کام کرنا ہوگا۔ تحفظات پر آپس میں بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا اور آپس میں بات چیت کے ذریعے ہی مسائل حل کریں گے۔ ہماری لیڈرشپ نے آزادکشمیر کے تمام مسائل عوام کی بہتری کے لیے حل کرنیکی ہدایت کی ہے۔ اب تک عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ چھ میٹنگ ہو چکی ہیں کچھ یہاں اور کچھ اسلام آباد میں ہوئی ہیں۔ ہمارے 37پوائنٹس پر ون بائی ون بات چیت ہوئی۔ چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ وفاقی وزیر امور کشمیر کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ ایکشن کمیٹی کیساتھ ہونے والے معاہدہ کی عملدرآمد کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے آج یہاں آئے اور اچھے ماحول میں 38نکات پر بات ہوئی ہے اور ہم نے اب تک کی پراگرس سے ایکشن کمیٹی کے نمائندگا ن کو آگاہ کیا ہے۔ 14مئی کو مہاجرین کی 12نشستوں کے حوالہ سے آئینی کمیٹی کی میٹنگ ہوگی جس کے بعد سفارشات عملدرآمد کمیٹی کو ارسال کر دی جائیں گی۔ہم امید کرتے ہیں کہ بات چیت کے ذریعے معاملات کو آگئے بڑھائیں گے۔اسوقت پاکستان نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا۔ مالی حالات بہتر ہو رہے ہیں۔مالی بحران کے دوران پاکستان کی حکومت نے آزادکشمیر کی حکومت کو کسی امتحان میں نہیں ڈالا۔ ہماری منزل پاکستان ہے ہم نے پاکستان کو مستحکم کرنے کے بارہ میں اقدامات کرنے ہیں۔وزیر ایلیمنٹری وسکینڈری ایجوکیشن دیوان علی خان چغتائی نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے زیادہ ترنکات پر یا تو عملدرآمد ہوچکا ہے یہ ان پر تیزی سے پراگرس جاری ہے۔ مہاجرین نشستوں پر آئینی کمیٹی کا اجلاس 14مئی کو ہونے جا رہا ہے جس میں ایکشن کمیٹی کے نمائندگان کو شریک ہونا چاہیے۔ اسوقت جو عالمی حالات چل رہے ہیں جن میں حکومت پاکستان اور سپہ سالار جو کردار ادا کر رہے ہیں وہ مثالی ہے ایسے وقت میں یہ خطہ کسی بھی افرادتفری کا متعمل نہیں ہو سکتا۔ہم سب کو دانشمندی کے ساتھ اگلا قدم اٹھانا ہوگا۔ وفاقی حکومت نے ہمیشہ ہمیں وسائل فراہم کیے ہیں ہمیں بھی مثبت انداز میں آگئے بڑھنا ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ حکومت کی نمائندگی سیاسی لوگ کرتے ہیں۔ ایکشن کمیٹی کے ساتھ پورے مینڈیٹ کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے۔ آزادکشمیر کے مفادات کو سامنے رکھ کر بات کر رہے ہیں۔ہم نے ایکشن کمیٹی کے نمائندگان کا شکریہ بھی ادا کیا کہ ہماری بات چیت اچھے ماحول میں ہوئی ہم ان سے توقع رکھتے ہیں کہ خطے کی صورتحال کو سامنے رکھ کر بات چیت کو آگئے بڑھائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہڑتالوں کی طرف جانے سے عوام کو کچھ نہیں ملے گا۔ ان حالات میں ہمیں اس طرف جانے کی ضرورت نہیں۔ مہاجرین نشستوں کے لیے معاہدہ کے تحت خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ آپس میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو مطمئن کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔آج ایکشن کمیٹی کے نمائندگان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 14تاریخ کی میٹنگ میں شرکت کریں گے اور مل کر اس پر بات چیت کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ قاسم مجید نے کہا کہ اگر ہم ایکشن کمیٹی کے نکات 9جون تک حل کر لیں تو ہم اس روز یوم تشکر بھی منا سکتے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 177ایف آئی آر واپس ہو چکی ہیں 15ایف آئی آر ڈیتھ کیسز کی تھیں جن پر متفقہ طور پر فیصلہ ہوا ہے کہ اس سلسلہ میں عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد ہوگا۔شہدا،زخمیوں کو نوکری اور کمپنسیشن دیدی گئی ہے۔پاسکو کے ساتھ آٹے کاکوٹہ پچاس پچاس فیصد کر دیا ہے اسکو ہم مزید ستر،تیس تک لے کر جا رہے ہیں۔وفاقی وزیر امور کشمیر اور ہماری مشترکہ کوشش ہے کہ عوام کو آٹے کی بہتر سے بہترکوالٹی فراہم کر سکیں۔تعلیمی بورڈ کا آرڈیننس منظور ہوچکا ہے اب ایکٹ کے لیے معاملہ اسمبلی میں بھی آچکا ہے۔پراپرٹی ٹیکس بھی 8.5فیصد کر دیا گیا ہے۔ احتساب بیورو ایکٹ اسمبلی میں چلا گیا ہے۔یوایس ایف فنڈز کا سی ای او لگا دیا گیا ہے۔ اگلے چند ماہ میں ٹیلی کیمونیکشن میں تبدیلی محسوس کرسکیں گے۔صحت کارڈ کا اجراء ہوچکا ہے اس سلسلہ میں آئندہ چند دنوں میں سٹیٹ لائف کو فنڈز مل جائیں گے اور آنے والے چند دنوں میں صحت کارڈ کی سہولت شرو ع ہوجائے گی۔ٹیرف کا معاملہ، متاثرین منگلا کے سابقہ بل معاف، متاثرین منگلا کو اضافی کنبہ جات کی پرچیاں دیدی گئی ہیں، نئی کالونیاں کی منظوری، مختلف پلوں کی منظوری، اوپن میرٹ پالیسی کا عدالت عالیہ سے فیصلہ ہو چکا ہے اس پر حکومت عملدرآمدکر رہی ہے۔آزادکشمیر حکومت کی حد تک معاملا حل ہوچکے ہیں جبکہ فیڈرل گورنمنٹ بھی اپنے دائرہ اختیار کے معاملات حل کرنے میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ حکومت پاکستان نے گارنٹی دی ہے کہ آزادکشمیر کو خصوصی طور پر ترجیحی دیتے ہوئے معاملات حل کریں گے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے آزادکشمیر کا ماحول تبدیل ہوا ہے اور عوام کا سیاسی حکومت پر اعتماد بحال ہوا ہے۔آگے انتخابات میں عوام جس کو منتخب کریں گے وہ حکومت بنائے گا۔آئینی کمیٹی کی ایک میٹنگ میں ایکشن کمیٹی کے نمائندگان نے شرکت کی ہے جبکہ ایک میٹنگ کا بائیکاٹ کیا ہے۔آج کی میٹنگ میں انہوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ 14تاریخ کی میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ہماری طرف سے وزیر قانون وسینئر موسٹ وزیر میاں عبدالوحید شرکت کریں گے۔ ریاست کے مفاد میں مل جل کر آگے بڑھیں گے۔
٭٭٭٭٭٭
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






