وفاقی پنشنرز کے لیے بائیومیٹرک تصدیق کا نیا نظام نافذ کردیا گیا ہے، تاہم پنشن کی ادائیگی براہ راست بینک اکاؤنٹس میں جاری رہے گی۔
اعلامیے کے مطابق کمرشل بینکوں کا پنشنرز کی بائیومیٹرک تصدیق میں کردار ختم کردیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ نے پنشن کی ڈیجیٹل تصدیق اور ادائیگی کے نئے ایس او پیز جاری کردیئے ہیں۔ اب پنشنرز کی زندگی کی تصدیق نادرا کے ذریعے ڈیجیٹل طریقے سے ہوگی۔
وزارت خزانہ کے مطابق نادرا پنشنرز کا ڈیجیٹل لائف سگنل براہ راست سی جی اے اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کو بھیجے گا۔ پنشنرز کی تصدیق کے لیے بینکوں پر انحصار ختم کردیا گیا ہے، جبکہ کمرشل بینک صرف پنشن کی ادائیگی کے ایجنٹ کے طور پر کام کریں گے۔
بینک عام حالات میں پنشنرز کا بائیومیٹرک ڈیٹا وصول یا محفوظ نہیں کرسکیں گے۔ پنشن کی پرانی کاغذی ترسیل کا دستاویزی نظام ختم کردیا گیا ہے اور پنشنرز اب ڈیجیٹل طریقے سے پروف آف لائف مکمل کریں گے۔ پنشنرز نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے بھی زندگی کی تصدیق کرا سکیں گے۔
اعلامیے کے مطابق نادرا رجسٹریشن سینٹرز اور موبائل یونٹس سے بھی پنشن کی تصدیق ممکن ہوگی۔ بینک برانچز اور موبائل ایپس بھی نادرا کے مجاز مراکز کے طور پر تصدیق کی سہولت فراہم کرسکیں گے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مسلسل 6 ماہ تک ڈیجیٹل لائف سگنل نہ ملنے پر پنشن عارضی طور پر روک دی جائے گی، تاہم 6 ماہ تک تصدیق نہ ہونے پر اکاؤنٹ کو غیرفعال قرار نہیں دیا جائے گا۔ پنشن اکاؤنٹس صرف بائیومیٹرک تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے ڈورمنٹ نہیں کیے جاسکیں گے۔
ڈیجیٹل تصدیق ممکن نہ ہونے کی صورت میں متبادل طریقہ بھی موجود ہوگا۔ ڈیجیٹل تصدیق نہ ہونے پر ضلعی اکاؤنٹس دفاتر اور پنشن سہولت مراکز سے رجوع کیا جاسکے گا۔
بیرون ملک مقیم پنشنرز کے لیے بھی متبادل تصدیقی طریقہ رکھا گیا ہے۔ نئے ایس او پیز میں پنشن کی تصدیق کا عمل زیادہ آسان اور ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نئے ایس او پیز کا اطلاق وفاقی حکومت کے ریٹائرڈ ملازمین اور اہل فیملی پنشنرز پر ہوگا۔ حکام کے مطابق نئے پنشن ایس او پیز کا مقصد تصدیق کے عمل میں شفافیت اور سہولت بڑھانا ہے۔






