نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حضرت عیسیٰؑ کے روپ میں دکھائی گئی متنازع مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر کے معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کا مقصد خدا یا عیسائیوں کا مذاق اڑانا نہیں تھا۔
جے ڈی وینس نے پیر کے روز برائس کرافورڈ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ محض ماحول کو ہلکا پھلکا رکھنے کی کوشش کر رہے تھے اور ان کی کسی کی دل آزاری یا مذہبی توہین کی نیت نہیں تھی۔
یہ تصویر رواں سال اپریل میں ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی تھی، جس میں انہیں سفید اور سرخ رنگ کا چوغہ پہنے ایک بیمار شخص کو چھو کر شفا دیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ ٹرمپ نے یہ پوسٹ اگلے روز حذف کردی تھی۔
پوڈکاسٹ کے میزبان نے بتایا کہ وہ خود عیسائی ہیں اور تصویر دیکھ کر انہیں دکھ ہوا، جس پر وینس نے ٹرمپ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صدر عیسائیوں سے محبت کرتے ہیں اور اس تصویر کا مقصد خود کو خدا کے روپ میں پیش کرنا نہیں تھا۔
وینس نے ٹرمپ کو شوخ طبیعت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اچھا وقت گزارنا پسند کرتے ہیں اور مصنوعی ذہانت سے خاصے متاثر ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ خود سوشل میڈیا نہیں چلاتے بلکہ مختلف لوگ انہیں مواد دکھاتے رہتے ہیں، اور انہیں یہ میم مزاحیہ لگی، اسی لیے انہوں نے اسے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کردیا۔
ڈبلیو بی اے ایل کے ڈیٹا صحافیوں کے مطابق ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ سے گزشتہ سال اوسطاً روزانہ 18 پوسٹس کی گئی تھیں۔






