ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے ایران پر معاشی دباؤ سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے گزشتہ 14 روز کے دوران خطے میں 13 کروڑ بیرل تیل کی منتقلی میں معاونت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی ناکہ بندی ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچائے گی۔
بیسنٹ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے باقر قالیباف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر انہیں ’بڑا جھوٹا‘ قرار دیا۔ انہوں نے جنگ کے اخراجات سے متعلق دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم 130 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔
قالیباف نے امریکی مالیاتی کمپنی جین اسٹریٹ کیپٹل کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا کہ تیل کی ایک لین دین میں کمپنی کو 13 کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔
ایرانی اسپیکر نے امریکی ماہرِ معاشیات اور نوبیل انعام یافتہ پال کرگمین کا ایک مضمون بھی شیئر کیا، جس میں امریکی وزیر خزانہ کی طویل مدتی قرض لینے کی لاگت اور مارکیٹ مینجمنٹ سے متعلق پالیسیوں کو ناکام قرار دیا گیا ہے۔
قالیباف نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر امریکی قرضوں کی مارکیٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ جھوٹ بولنے والوں کے بیانات مارکیٹ میں آگ لگا رہے ہیں۔






