حکومت پنجاب کا تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ فوجی اہلکاروں سے کرانے کا فیصلہ

پنجاب حکومت نے تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کے لیے فوجی اہلکاروں کو بھرتی کرنے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ بھرتیوں کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب کے 22 اضلاع میں فوجی ملازمین کو بطور مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن آفیسرز (ایم ای اوز) بھرتی کیا جائے گا۔ بھرتی ایک سالہ کنٹریکٹ پر ہوگی، جس کے تحت 60 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی جبکہ محکمہ تعلیم کے قواعد کے مطابق دیگر سہولیات اور مراعات بھی حاصل ہوں گی۔

مانیٹرنگ کے لیے سرکاری موٹر سائیکل بھی فراہم کی جائے گی، جبکہ ایک سال مکمل ہونے کے بعد کنٹریکٹ میں توسیع کی گنجائش بھی موجود ہوگی۔ یہ بھرتیاں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پی ای ایف) کے تحت کی جائیں گی۔

اہلکاروں، جی سی اوز اور این سی اوز سے 7 ستمبر تک درخواستیں طلب کرلی گئی ہیں۔ امیدواروں کے لیے عمر کی حد 30 سے 55 سال مقرر کی گئی ہے جبکہ تعلیمی قابلیت گریجویشن رکھی گئی ہے اور پنجاب کا ڈومیسائل لازمی ہوگا۔

امیدوار کے لیے آئی ٹی کے شعبے میں تجربہ رکھنے کے ساتھ صحت مند ہونا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 28 مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن آفیسرز بھرتی کیے جائیں گے، جن میں 21 فوجی اہلکار اور 7 سویلین شامل ہوں گے۔

دوسرے مرحلے میں دیگر اضلاع کے لیے الگ بھرتیاں کی جائیں گی۔ علاوہ ازیں محکمہ تعلیم نے صوبے بھر کے اسکولوں میں ڈیلی ویجز پر عارضی بنیادوں پر یکمشت تنخواہوں پر تدریسی خدمات انجام دینے والے ڈیڑھ لاکھ اسکول ٹیچنگ انٹرنیز کے ختم ہونے والے کنٹریکٹ میں 9 ماہ کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔

اس حوالے سے سمری منظوری کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ارسال کردی گئی ہے۔ کنٹریکٹ موجودہ تعلیمی سیشن کے تحت مارچ 2027 تک جاری رہے گا، جبکہ سمری کی منظوری کے بعد باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔